Start of Main Content

محمد ایس دجانی داؤدی

محمد دجانی 1960 کی دہائی میں بیروت کی امریکی یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں فلسطینی آزادی کے لئے کوشاں تنظیم فتح کے فعال کارکن اور ممبر رہ چکے ہیں۔ لیکن ان کے والدین کے اسرائیلی ڈاکٹروں اور ہنگامی طبی عملے کے ہاتھوں دیکھ بھال اور پھر ان کے انتقال کے بعد ان کے سخت موقف میں نرمی آنا شروع ہوگئی۔ دجانی اب اعتدال پسندی کا درس دیتے ہیں اور ذاتی کہانیاں سنا کر تصادم ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن اعتدال پسندی کی مثال قائم کرنا آسان نہیں ہے۔

Transcript

محمد دجانی:

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمیں یہ تصادم اپنے  والدین سےورثے میں ملا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت ضروری ہے کہ ہمارے بچوں کے بچوں کو ورثے میں امن ملے۔

الیسا فشمین:

محمد دجانی 1960 کی دہائی میں بیروت کی امریکی یونیورسٹی میں طالب علمی کے زمانے میں فلسطینی آزادی کے لئے کوشاں تنظیم فتح کے سرگرم کارکن اور ممبر رہ چکے ہیں۔ لیکن ان کے والدین کے اسرائیلی ڈاکٹروں اور ہنگامی طبی عملے کے ہاتھوں دیکھ بھال اور پھر ان کے انتقال کے بعد ان کے خیالات میں نرمی آنا شروع ہوگئی۔ میرے دماغ میں رہ رہ کر یہ خیال آتا رہا کہ میرے دشمن نے میری ماں کو بچانے کی کوشش کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ دجانی اعتدال پسندی کا درس دینے لگے اور ذاتی کہانیاں سنا کر تصادم ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے اعتدال پسند اسلام کی وساٹیا تحریک قائم کی۔ لیکن اعتدال پسندی کی مثال قائم کرنا آسان نہیں ہے۔ اور اس موقف کی وجہ سے ان کو یروشلم کے جامعہ القدس میں 13 سال سے جاری پروفیسر کی ملازمت سے ہاتھ دھونے پڑے۔

سام دشمنی کے خلاف آوازیں  میں خوش آمدید۔ یہ یونائیٹڈ  اسٹیٹس ہولوکاسٹ میوزیم کی طرف سے جاری ہونے والی ایک پوڈ کاسٹ سیریز جو اولیور اور الیزبیتھ اسٹینٹن فاؤنڈیشن کے بھرپور تعاون  کی وجہ سے ممکن ہوئی۔ میں الیسا فشمین ہوں۔ ہر مہینے ہم ایک مہمان کو دعوت دیتے ہیں جو اس بات پر روشنی ڈالتے ہیں کہ سام دشمنی اورنفرت کس طرح ہماری دنیا کو متاثر کرتے ہيں۔ واشنگٹن ڈی سی سے محمد دجانی بات کررہے ہیں جو واشنگٹن اسٹی ٹیوٹ برائے مشرق قریب کی پالیسی کے فیلو ہیں۔

محمد دجانی:

میری ایک ایسی ثقافت میں تربیت ہوئی ہے جہاں نہ صرف ہولوکاسٹ سے انکار کیا جاتا ہے بلکہ اسے نکبہ سے منسلک کیا جاتا ہے۔ عربی میں نکبہ کے معنی "تباہی" کے ہیں۔ اس سے مراد 1948 کے واقعات ہیں۔ اسرائیلی 1948 کے واقعات کو جنگ آزادی کا نام دیتے ہیں لیکن فلسطینی اسے تباہی یعنی نکبہ کہتے ہیں کیونکہ اس کے نتیجے میں فلسطینیوں کو پناہ کی تلاش میں اپنا وطن چھوڑ کر مشرقی کنارے یا اردن، شام اور لبنان جانا پڑا۔ یہ ان کے لئے بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس کے نتیجے میں ایک فلسطینی کی حیثیت سے مجھے نہ ہولوکاسٹ کے بارے میں کچھ معلوم ہوا نہ ہی مجھے اس کے بارے میں بتایا گیا، اور مجھے یہ احساس دلایا گیا کہ ہولوکاسٹ جیسی کوئی چیز ہوئی ہی نہیں۔ لیکن کام کرتے کرتے مجھے ہولوکاسٹ کے بارے میں مزید باتیں معلوم ہونے لگیں اور میں اس کے بارے میں فلمیں اور دستاویزی فلمیں دیکھنے لگا اور اس کے بارے میں پڑھنے لگا۔ پھر 2011 میں مجھے آشوٹز جانے کا موقع ملا۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کیا ہوا تھا۔

جب میرے طلباء مجھ سے پوچھتے کہ ہولوکاسٹ کے بارے میں جاننا کیوں ضروری ہے، میں ان سے صرف یہ کہتا کہ یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ تم صحیح کام کرسکو۔ میرا دل کہتا تھا کہ یہی صحیح ہے۔ لہذا مارچ 2014 میں میں 27 طلباء کوآشوٹز لے گیا۔ ان فلسطینی طلباء کو آشوٹز لے جانے کے بعد میرا ارادہ تھا کہ میں 30 اسرائیلی طلباء کو فلسطینی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں لے جا کر انہیں نکبہ کے بارے میں بتاؤں۔ اس اقدام کا مقصد اس بات کو سمجھنا تھا کہ دوسروں کے دکھ درد کو دیکھنے کے بعد کیا آپ کو ان سے ہمدردی ہوگی؟ اور اس طرح کیا دونوں کے درمیان فاصلے کم ہوسکيں گے اور اُن کے ساتھ امن قائم ہوسکے گا؟

مجھے یہ لگتا ہے کہ میرے طلباء نے میری بات مانی اور جب وہ میرے ساتھ آشوٹز گئے تو وہ سیکھنے ہی کی نیت سے گئے تھے۔ میرے لئے یہ میرے مذہب کی تعلیم تھی کیونکہ اسلام پیدائش سے لے کر قبر تک علم حاصل کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ بنیادی طور پر اس کا تعلق سیکھنے اور علم حاصل کرنے سے ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہمیں ممانعتوں کو بھی نظر انداز کرنے کی ضرورت ہے۔ میرے خیال میں ہولوکاسٹ سے انکار فلسطینی ثقافت اور فلسطینی نفسیات کی ایک ممانعت ہے اور ان ممانعتوں کو نظر انداز کئے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے ہیں۔ اس سانحے سے انکار کرنا اخلاقی طور پر غلط ہے۔ لہذا آپ اس کے بارے میں جتنی معلومات حاصل کریں گے آپ کا اس سے انکار اتنا ہی کم ہوگا۔

میرے طلباء کے لئے آشوٹز جا کر آشوٹز کے واقعات کا سامنا کرنا بہت مشکل تھا۔ ان کے لئے واپس آنا بھی مشکل تھا کیونکہ وہ ایک ایسے معاشرے میں لوٹ رہے تھے جسے آشوٹز کے بارے میں اب تک کچھ معلوم نہیں تھا۔ ان کے لئے اس کا قصہ سنانا یا تصویریں دکھانا بہت مشکل تھا۔ اس کے بعد اس کی خبر میڈیا پر پھیل گئی جس سے یوں ظاہر ہونے لگا کہ یہ پروپیگنڈا کی کوشش تھی۔ طلباء کو ای میل موصول ہونا شروع ہونے لگی: تم وہاں کیا کررہے ہو؟ یہ پروپیگنڈا ہے۔ تم اس کا حصہ کیسے بن گئے؟ انہیں اپنے ہم منصبوں، دوستوں اور رشتہ داروں کی فکر ہونے لگی۔ جب ہم واپس پہنچے تو اس کا سارا نزلہ مجھ پر گرنے لگا کیونکہ سب کو یہ لگنے لگا کہ میں انہیں برین واش کرنے کے لئے وہاں لے کر گیا تھا۔

مسئلہ اس وجہ سے بھی بڑھ گیا کہ یونیورسٹی نے میری حمایت کرنے اور اسے آزادی تعلیم کا نام دینے کے بجائے ایک بیان جاری کردیا کہ ہمارا اس سرگرمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ پروفیسر نے خود کیا ہے۔ میں غلط ہوں، میں فلسطین کا مخالف ہوں اور میں قوم پرست نہیں ہوں۔ اس کے بعد طلباء کی یونین نے میرے خلاف کیمپس پر احتجاج شروع کیا۔ ہر کسی کو اکسایا جارہا تھا اور کوئی بھی سننا اور سمجھنا نہیں چاہ رہا تھا۔

میں نے یہ کہہ کر اپنا استعفی دے دیا کہ یہاں آزادی تعلیم نہیں ہے۔ میں امید کررہا ہے تھا کہ یونیورسٹی میرے استعفی کو مسترد کردے گی لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ انہوں نے میرا استعفی قبول کرلیا۔  مجھے لگا کہ میرے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہوگیا ہے۔ اور پھر کچھ ماہ بعد جب مجھے لگا کہ معاملہ کچھ ٹھنڈا ہوگیا ہے، ایک رات کسی نے میری گاڑی کو آگ لگادی۔

اعتدال پسند ہونا بہت مشکل ہے۔ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اعتدال پسندی بہت نرم ہونے کا نام ہے اور یہ کہ یہ بہت آسان ہے۔ لیکن اعتدال پسند ہونا اور اعتدال پسندی کو آگے بڑھانا، خصوصی طور پر تصادم کے دوران، بہت مشکل ہے کیونکہ کوئی اس کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ یا تو آپ ان کے ساتھ ہیں یا آپ ان کے خلاف ہیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ ہمیں اس تصادم کی وجہ سے اپنے اندر کی انسانیت کو ختم نہیں کردینا چاہئیے۔

الیسا فشمین:

2014 میں جامعہ القدس سے استعفی دینے کے بعد دجانی نے جرمنی کی فرائیڈرک شیلر یونیورسٹی کے ساتھ شراکت کرکے مصالحت اور امن کے مذاکرات میں پی ایچ ڈی پروگرام وقع کیا ۔ ان کے ساتھ آشوٹز جانے والے کچھ طلباء نے داخلے کی درخواست دی ہے۔