Start of Main Content

ایان ہرسی علی

ایان ہرسی علی خود کو"اسلام سے منحرف" قرار دیتی ہیں۔ قتل کی دھمکیوں کے باوجود ہرسی آزادئ اظہار، یہودیوں کے بارے میں پائی جانے والی نفرت اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ سے متعلق کھل کر بات کرتی رہتی ہیں۔

Transcript

مکمل نقل

ایان ہرسی علی:

کینیا میں رہتے ہوئے مجھے ہر قسم کے ذرائع ابلاغ سے بار بار یہی پیغام ملتا رہا کہ یہودی بُرے ہیں اور اُن کے وجود میں ہی شر موجود ہے۔ لہٰذا ایسے ملکوں میں جنہیں پسماندہ کہا جا سکتا ہے، غریب لوگوں کو روزانہ نفرت کی خوراک مل رہی ہے اور ایک لحاظ سے میں کہوں گی کہ کیا آپ اُنہیں موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں؟ کیا آپ میری والدہ کو اِس بات میں یقین رکھنے کی بنا پرمحض اِس لئے الزام دے سکتے ہیں کہ اُنہوں نے پہلے کبھی بھی اِس سے مختلف بات نہیں سنی؟

ڈینئیل گرین:

ایان ہرسی اپنے آپ کو اسلام سے منحرف قرار دیتی ہیں۔ ایان سومالیہ میں پیدا ہوئی تھیں اور اپنے خاندان کی طرف سے طے کی گئی شادی سے بچنے کیلئے اُنہوں نے 1992میں ہالینڈ میں سیاسی پناہ لے لی تھی۔ وہاں اُنہوں نے پولیٹکل سائنس کی تعلیم حاصل کی اور پھر ترقی کرتے کرتے ہالینڈ کی پارلیمانی نشست حاصل کر لی۔ سن 2004 میں ایان صاحبہ نے ڈائریکٹر تھیو وان گو Theo Van Gogh کے ساتھ مل کر فلم سبمشن Submission بنائی جس میں خواتین کے ساتھ سلوک کے حوالے سے اسلام پر تنقید کی گئی تھی۔ فلم ریلیز ہونے کے بعد ڈائریکٹر وان گو ایک اسلامی انتہاء پسند کے ہاتھوں قتل ہو گئے اور ایان صاحبہ کو بھی قتل کی دھمکیاں ملیں۔ اب واشنگٹن ڈی۔ سی میں امریکن انٹرپرائز انسٹی ٹیوٹ کی ریزیڈنٹ فیلو کی حیثیت سے وہ آزادئ اظہار، یہودیوں کے خلاف نفرت اور اسلام کی اصلاح کے بارے میں کُھل کر بات کرتی رہتی ہیں۔

میں آپ کو"سام دشمنی کے خلاف آوازیں" یعنی "Voices on Antisemitism" میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ یونائیٹڈ اسٹیٹس ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کی مُفت پاڈ کاسٹ سیریزکا ایک حصہ ہے۔ میں ڈینیل گرین ہوں۔ ہم ہر دوسرے ہفتے آج کی دنیا پر مختلف حوالوں سے سام دشمنی اور نفرت کے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ایک مہمان کو مدعو کرتے ہیں۔ آج کی مہمان ہیں سیاستدان اور فعال کارکن ایان ہرسی علی۔

ایان ہرسی علی:

میں نے یہودیوں کے بارے میں کبھی نہیں جانا اور میں نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ بھی انسان ہیں۔ ہمارے لئے وہ ہمیشہ شیطان ہی تھے۔ جب میں بچی تھی تو میں چونکہ یہودیوں کے ساتھ اکٹھے کبھی نہیں رہی، اس لئے میں اُن کے بارے میں جو بھی جانتی تھی وہ محض ایک تصور ہی تھا۔ جیسا کہ مجھے بتایا گیا تھا میرے ذہن میں اُن کی تصویر یہی بنتی تھی کہ اُن کا بہت بڑا سر اور ایک بڑی سی ناک ہوتی ہے اور اِس شیطان کا سریعنی یہودی شیطان کا سر گنجا ہوتا ہے۔ اس کے بیچ میں ایک گڑھا ہوتا ہے جس میں سے چھوٹے شیطان، شر انگیز جن اور بری روحیں باہر نکلتی ہیں۔ وہ بہت شرارتی ہوتے ہیں اور ہمیں گناہ کرنے پر اُکساتے ہیں۔ ہمیں خدا کی عبادت سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میں نماز پڑھنے کیلئے جانے کی بجائے اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلنے کیلئے چلی جاتی تو میں سمجھتی کہ وہ یہودی شیطان ہی تھا جو مجھے ایسا کرنے پر مجبور کرتا تھا۔

میں 1992 میں ہالینڈ چلی آئی اور اینٹورپ Antwerp میں ایک دوست کے ساتھ رہی۔ ہم سڑک کے کنارے سیر کر رہے تھے جب اُس نے مجھے بتایا کہ ہم ایک یہودی بستی میں ہیں تو مجھ پر سکتا طاری ہو گیا۔

میں نے پوچھا "کیا؟" اُس نے کہا " ہم ایک یہودی بستی میں ہیں۔" میں نے پوچھا "کیا یہاں چھوٹے یہودی ہیں؟" اُس نے کہا "ہاں!" میں نے کہا "لیکن کہاں؟" اُس نے لوگوں کے ایک مجمع کے طرف اشارہ کیا اور کہا "مثال کے طور پر وہ آدمی وہاں۔" میں نے کہا "وہ آدمی؟ لیکن وہ تو محض ایک آدمی ہے۔ وہ ایک انسان ہے۔"

بعد میں ہمارا تاریخ سے تعارف ہوا۔ میں نے دوسری جنگِ عظیم، ہالوکاسٹ اور اُن کیمپوں کے بارے میں جانا جہاں لوگوں کو اذیت دی جاتی تھی۔ میں نے گیس کے ذریعے لوگوں کو ہلاک کئے جانے اور بہت سی دوسری چیزوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل کیں۔ اُس وقت جو کچھ ہوا اور جو کہانیاں میں نے سنیں، اُن کے بارے میں میں ششدر رہ گئی بلکہ میں بے حد شرمندہ بھی ہوئی کیونکہ اُس وقت یہ سب کچھ ہالینڈ میں ہی ہوا تھا۔ میں نے یہ سب جاننے کی کوشش کی کہ 1930 اور 1940 کی دہائی میں کیا غلط ہوا تھا۔ ہالینڈ کے لوگوں نے اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو مرنے کیلئے کیوں اور کیسے بھیج دیا اور کیا یہ سب نے ملکر کیا یا پھر یہ صرف جرمنوں کی نفسیاتی کیفیت تھی۔ میں خاموش تھی اور شرمندہ بھی اور سوچ رہی تھی کہ اگر میں 1930 کی دہائی میں وہاں رہتے ہوئے اِسی تصور کے ساتھ بڑی ہوئی ہوتی کہ یہودی برے ہوتے ہیں اور یہ کہ اگر میں بھی اُن کارروائیوں میں شامل ہوتی تو کیا ہوتا۔ میں جانتی ہوں کہ اُس وقت لوگوں کی بہت بڑی تعداد اُن کارروائیوں میں ضرور شامل ہوتی۔

بنیاد پرست اسلام اور اِس کے ذریعے یہودیوں کے خلاف ظاہر ہونے والی نفرت کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ یہودیوں کے خلاف نفرت کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو خفیہ جاسوسوں کے ذریعے پھیلائی گئی ہو بلکہ یہ ایک عوامی مظہر ہے۔ میرا مطلب ہے کہ جب میں سعودی عرب میں رہ رہی تھی تو وہاں کے سرکاری پریس اور سرکاری ذرائع ابلاغ میں یہودیوں کا ذکر ایسے کیا جاتا تھا جیسے وہ قابلِ نفرت ہوں۔ وہاں یہودیوں کے بارے میں کی جانے والی باتیں کم و بیش وہی ہیں جو جرمن نازی یہودیوں کے بارے سوچتے تھے یعنی یہودی ایسے لوگ ہیں جو تمام طاقت، لوگوں کے ذہنوں، دولت اور ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرتے ہیں اور یہ کہ یہودی اسلام کو تباہ کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ یہ اب ہمارا منصب ہے کہ ہم ایسے تصورات کو ختم کریں اور ایک مختلف نوعیت کا پیغام پھیلائیں جو اُمید اور انسانیت پر مبنی ہو۔