United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ہالوکاسٹ کے دوران بچے — شخصی کہانیاں

لیڈیا لیبووٹز

لیڈیا لیبووٹز

پیدا ہوا: سیروس پاٹک، ہنگری
ca. 1934

دو بہنوں میں چھوٹی لیڈیا ایک یہودی ماں باپ کے ہاں پیدا ہوئي جوسیروس پاٹک میں رہ رہے تھے۔ یہ شمال مشرقی ہنگری کا ایک چھوٹا سا شہر ہے۔ لیڈیا کے والدین ڈرائی گُڈز کے ایک کامیاب کاروبار کے مالک تھے۔ اُس وقت ریڈی میڈ ملبوسات دیہی علاقوں میں ابھی عام نہیں ہوئے تھے۔ قصبے کے لوگ اور مقامی کسان لیبووٹز اسٹور سے ان سلا کپڑا خریدتے تھے اور پھر کپڑے سلانے کیلئے کسی درزی یا درزن کے پاس لیجاتے تھے۔

1933-39: لیڈیا کی عمر دو سال تھی جب اُن کی خالہ سیڈی جو کئی برس قبل امریکہ نقل مکانی کر گئی تھیں، اپنے دو بچوں آرتھر اور لیلین کے ساتھ لیڈیا کے خاندان سے ملنے آئیں۔ اپنے دادا دادی کے فارم پر تمام کزنز نے کھیتے کودتے ہوئے اچھا وقت گزارا۔ امریکہ سے آتے ہوئے لیڈیا کی خالہ کا جہاز ہیمبرگ جرمنی میں رکا اور خالہ سیڈی نے نازیوں کو گلی کوچوں میں مارچ کرتے دیکھا۔ خالہ سیڈی پریشان تھیں کہ سیروس پاٹک میں اُن کے خاندان کا کیا ہو گا۔

1940-44: 1944 میں جرمنی نے ہنگری پر قبضہ کرلیا۔ حملے کے ایک ماہ بعد نازی احکام پر عمل کرتے ہوئے ہنگری کی پولس یعنی ژانڈارم نے لیڈیا اور اُن کے والدین کو اُن کے گھر سے نکال دیا۔ لیبووٹز خاندان نے دیگر سینکڑوں یہودی شہریوں سے کھچا کھچ بھرے ہوئے سناگاگ میں تین دن گزارے جس کے بعد اُنہیں ایک قریبی قصبے سیتورل جوجھیلی بھیج دیا گیا جہاں تقریباً 15 ھزار یہودیوں کو قصبے کے خانہ بدوشوں کے علاقے میں قائم ایک چھوٹی یہودی بستی یعنی گھیٹو میں بھر دیا گیا۔ گھیٹو کے رہائشیوں کو خوراک کے حصول میں کافی مشکلات رہیں۔

یہ بستی مئی اور جون 1944 میں بند کردی گئی۔ تمام یہودیوں کو مہربند باربردار گاڑیوں میں سوار کر کے آشوٹز بھیج دیا گیا۔ لیڈیا اور اُن کے والدین کے بارے میں کبھی کوئی خبر یا اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.