United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

نازی کیمپوں کی آزادی — ذاتی تاریخ

پیٹ لنچ
پیدا ہوا: ریاستہائے متحدہ امریکہ

کیمپ میں زندہ بچ جانے والے خوراک کی کمی سے بدحال اور شدید طور پر بیمار افراد کی دیکھ بھال۔ [انٹرویو: 1995]

مکمل نقل:

نسوں میں یعنی انٹرا وینس انجکشن دینا تقریبا ناممکن تھا کیونکہ وہ خوراک کی کمی سے بدحال تھے۔ لہذا اس حالت میں اگر ہم کوئی مائع چیز ٹیکوں کے ذریعے جسم میں داخل کرتے تو دل اور پھیپھڑوں کیلئے اسے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا۔ وہ لوگ کوئی چیز نگل بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن ہم نے بہت ہی احتیاط اور آہستگي کے ساتھ نسوں میں انجکشن دینا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اُنہیں طبی ڈراپروں سے خوراک فراہم کرنی شروع کی اور اس طرح میں نے اُنہیں کچھ قوت پہنچانے کی کوشش کی۔ اگر اُنہیں کوئی خستہ بسکٹ یا کوئی ایسی چیز دیتی تو وہ اندر نہ جا سکتی۔ اُنہوں نے بہت عرصے سے کوئی چیز نگلی ہی نہیں تھی۔ لہذا میں ہلکے ہلکے یوں اُن کو سہلاتی اور تھوڑا تھوڑا چمچے سے پلاتی تاکہ وہ آرام سے پیٹ میں اتر جائے۔۔۔ ان کے پاس پرانے بڑے پیالے تھے۔۔۔ میں نہیں جانتی کہ وہ ان کا کیا کرتے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو کہ اُنہیں ان میں کسی قسم کا سوپ دیا جاتا تھا۔ بڑے پرانے لکڑی کے پیالے اور ایک بڑا سا چمچہ۔ وہ اتنے لاغر اور کمزور تھے کہ وہ اُٹھ کر چمچہ اُٹھانے کے قابل نہیں تھے۔ وہ ان پیالوں کو کسی بھی طرح اپنے منھ تک نہیں لے جا سکے کیونکہ انکے منھ یوں بند تھے اور کچھ کھانے کے لئے اپنا منھ نہیں کھول سکتے تھے۔۔۔ میرے خیال میں یہ پیالے اور سوپ یہاں تین دن سے پڑے ہوئے تھے۔

نسوں میں یعنی انٹرا وینس انجکشن دینا تقریبا ناممکن تھا کیونکہ وہ خوراک کی کمی سے بدحال تھے۔ لہذا اس حالت میں اگر ہم کوئی مائع چیز ٹیکوں کے ذریعے جسم میں داخل کرتے تو دل اور پھیپھڑوں کیلئے اسے برداشت کرنا مشکل ہو جاتا۔ وہ لوگ کوئی چیز نگل بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن ہم نے بہت ہی احتیاط اور آہستگي کے ساتھ نسوں میں انجکشن دینا شروع کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم نے اُنہیں طبی ڈراپروں سے خوراک فراہم کرنی شروع کی اور اس طرح میں نے اُنہیں کچھ قوت پہنچانے کی کوشش کی۔ اگر اُنہیں کوئی خستہ بسکٹ یا کوئی ایسی چیز دیتی تو وہ اندر نہ جا سکتی۔ اُنہوں نے بہت عرصے سے کوئی چیز نگلی ہی نہیں تھی۔ لہذا میں ہلکے ہلکے یوں اُن کو سہلاتی اور تھوڑا تھوڑا چمچے سے پلاتی تاکہ وہ آرام سے پیٹ میں اتر جائے۔۔۔ ان کے پاس پرانے بڑے پیالے تھے۔۔۔ میں نہیں جانتی کہ وہ ان کا کیا کرتے تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہو کہ اُنہیں ان میں کسی قسم کا سوپ دیا جاتا تھا۔ بڑے پرانے لکڑی کے پیالے اور ایک بڑا سا چمچہ۔ وہ اتنے لاغر اور کمزور تھے کہ وہ اُٹھ کر چمچہ اُٹھانے کے قابل نہیں تھے۔ وہ ان پیالوں کو کسی بھی طرح اپنے منھ تک نہیں لے جا سکے کیونکہ انکے منھ یوں بند تھے اور کچھ کھانے کے لئے اپنا منھ نہیں کھول سکتے تھے۔۔۔ میرے خیال میں یہ پیالے اور سوپ یہاں تین دن سے پڑے ہوئے تھے۔

پیٹ ان ہزاروں امریکی نرسوں میں سے ایک تھیں جنہوں نے یورپ میں حراستی کیمپوں کو آزاد کرانے کے دوران ہسپتالوں سے لوگوں کے انخلاء کیلئے کام کیا تھا۔ اُنہوں نے کیمپ میں زندہ بچ جانے والوں کی دیکھ بھال کی جن میں سے اکثر کی حالت آزادی کے وقت نازک تھی۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.