United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ہولوکاسٹ کے بعد — ذاتی تاریخ

رفکا موسکووٹز گلاٹز
پیدا ہوا: 1937, ڈیبریکن، ہنگری

کیبوٹز میں رہائش اور زبان کی مشکلات کا سامنا۔ [انٹرویو: 1995]

مکمل نقل:

میں کتنے آرام سے رہ سکتی تھی؟ اس وقت میری عمر ساڑھے ساتھ سال تھی۔ ذرا سوچئیے۔ میں صرف ساڑھے سات برس کی تھی۔ لہذا میں اسکول کی پہلی جماعت کی تعلیم حاصل نہ کر سکی۔ میں دوسری جماعت میں بھی نہ جا سکی۔ پھر میں نے پہلی جماعت سے تعلیم شروع کی۔ وہ پہلا وقت تھا جب میں اسکول گئی اور میں نے پڑھنا اور لکھنا سیکھنا شروع کیا۔ اُس پر مزید یہ کہ میں کیبوٹز میں تھی جہاں کوئی بھی ہنگری کی زبان نہیں بولتا تھا۔ میں بہت کم جرمن بولتی تھی اور یقینی طور پر میں عبرانی زبان تو بالکل ہی نہیں جانتی تھی۔ لہذا دوسروں سے بات کرنا بہت ہی مشکل تھا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح میں نے جلد ہی یہ زبان سیکھ لی۔ لیکن میرے بھائی اور میری والدہ سے بات کرنا پھر بھی بہت مشکل تھا کیونکہ میں پڑھنا اور لکھنا نہیں جانتی تھی۔ میں نے عبرانی زبان میں پڑھنا اور لکھنا شروع کیا تھا۔ اُس وقت میری زبان استعمال کرنے کی اہلیت بہت ہی محدود تھی۔ لیکن پہلی جماعت کے تمام بچوں کی طرح آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میری زبان کیسی ہو گی اور میں ہجوں کی کتنی غلطیاں کرتی ہو نگی۔ میری والدہ عبرانی زبان پڑھنا نہیں جانتی تھیں اور میں اُن کے ہنگری کی زبان میں لکھے ہوئے خط نہیں پڑھ سکتی تھی۔ کوئی بھی مجھے وہ خط پڑھ کر سنا نہیں سکتا تھا۔ یوں یہ بہت ہی مشکل تھی۔ میرے بھائی مجھے عبرانی زبان میں لکھتے تھے لیکن میں وہ بھی نہیں پڑھ سکتی تھی۔ لیکن وہ خط کوئی نہ کوئی مجھے پڑھ کر سنا سکتا تھا۔ یوں یہ بظاہر مضحکہ خیز تھا لیکن ایک دوسرے سے بات کرنا بہت ہی مشکل تھا۔

میں کتنے آرام سے رہ سکتی تھی؟ اس وقت میری عمر ساڑھے ساتھ سال تھی۔ ذرا سوچئیے۔ میں صرف ساڑھے سات برس کی تھی۔ لہذا میں اسکول کی پہلی جماعت کی تعلیم حاصل نہ کر سکی۔ میں دوسری جماعت میں بھی نہ جا سکی۔ پھر میں نے پہلی جماعت سے تعلیم شروع کی۔ وہ پہلا وقت تھا جب میں اسکول گئی اور میں نے پڑھنا اور لکھنا سیکھنا شروع کیا۔ اُس پر مزید یہ کہ میں کیبوٹز میں تھی جہاں کوئی بھی ہنگری کی زبان نہیں بولتا تھا۔ میں بہت کم جرمن بولتی تھی اور یقینی طور پر میں عبرانی زبان تو بالکل ہی نہیں جانتی تھی۔ لہذا دوسروں سے بات کرنا بہت ہی مشکل تھا۔ لیکن تمام بچوں کی طرح میں نے جلد ہی یہ زبان سیکھ لی۔ لیکن میرے بھائی اور میری والدہ سے بات کرنا پھر بھی بہت مشکل تھا کیونکہ میں پڑھنا اور لکھنا نہیں جانتی تھی۔ میں نے عبرانی زبان میں پڑھنا اور لکھنا شروع کیا تھا۔ اُس وقت میری زبان استعمال کرنے کی اہلیت بہت ہی محدود تھی۔ لیکن پہلی جماعت کے تمام بچوں کی طرح آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میری زبان کیسی ہو گی اور میں ہجوں کی کتنی غلطیاں کرتی ہو نگی۔ میری والدہ عبرانی زبان پڑھنا نہیں جانتی تھیں اور میں اُن کے ہنگری کی زبان میں لکھے ہوئے خط نہیں پڑھ سکتی تھی۔ کوئی بھی مجھے وہ خط پڑھ کر سنا نہیں سکتا تھا۔ یوں یہ بہت ہی مشکل تھی۔ میرے بھائی مجھے عبرانی زبان میں لکھتے تھے لیکن میں وہ بھی نہیں پڑھ سکتی تھی۔ لیکن وہ خط کوئی نہ کوئی مجھے پڑھ کر سنا سکتا تھا۔ یوں یہ بظاہر مضحکہ خیز تھا لیکن ایک دوسرے سے بات کرنا بہت ہی مشکل تھا۔

رفکا کی پرورش ڈیبریکن کے ایک مذہبی گھرانے میں ہوئی۔ 1940 کی دہائی کے شروع میں اُن کا خاندان شمالی ٹرانسلوانیا میں کلج (کولوزوار) کی طرف چلا گيا۔ یہ علاقہ 1940 میں رومانیا سے ہنگری کے تسلط میں چلا گیا تھا۔ 1944 میں اُنہیں اور اُن کے خاندان کو کلج میں اپنا گھر چھوڑ دینے پر مجبور ہونا پڑا۔ اُنہیں نازیوں کی مدد کرنے والے ہنگری کے فوجیوں نے پکڑ لیا۔ وہ اُنہیں ایک اینٹوں کے بھٹے پر لے گئے جہاں اُنہیں ایک ماہ تک رہنا پڑا۔ جون 1944 میں رفکا کو برجن بیلسن حراستی کیمپ میں بھیج دیا گيا۔ آٹھ مہینے کے بعد اُنہیں سوٹزرلینڈ میں بھیج دیا گيا۔ وہ ستمبر 1945 میں بحری جہاز کے ذریعے فلسطین چلی گئیں اور پھر 1958 میں وہ امریکہ منتقل ہو گئیں۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.