United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ہولوکاسٹ کے بعد — ذاتی تاریخ

ٹامس بوئرگینتھل
پیدا ہوا: 1934, لوبوچنا، چیکوسلواکیہ

جنگ کے بعد مائگریشن کے دوران پیش آنے والی مشکلات کی ایک جھلک۔ [انٹرویو: 1990]

مکمل نقل:

پولینڈ چھوڑنا اتنا آسان نہیں تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے پاس کوئی کاغذات یا کوئی اور چیز نہیں تھی اور میری والدہ اُس وقت جرمنی کے برطانوی زون میں تھیں۔ لہذا دسمبر 1946 میں امریکن جائینٹ ڈسٹری بیوشن کمیٹی [جائینٹ] نے بنیادی طور پر مجھے پولینڈ سے باہر اسمگل کر کے چیکوسلواکیہ پہنچا دیا اور پھر چیکوسلواکیہ سے امریکی زون میں اور اُس کے بعد امریکی زون سے جرمنی میں برطانوی زون میں پہنچا دیا۔ بعد میں میں اپنی والدہ سے جا ملا۔ اور وہاں بریہا ["فلائیٹ"] کے ساتھ مشترکہ کام کرنے والی کمیٹی نے سرحد پر بہت سے لوگوں کو رشوت دی اور اس طرح میں 1946 میں جرمنی آ سکا۔ یہ اپنی والدہ سے بچھڑنے کے پورے تین برس بعد ممکن ہوا۔

پولینڈ چھوڑنا اتنا آسان نہیں تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ میرے پاس کوئی کاغذات یا کوئی اور چیز نہیں تھی اور میری والدہ اُس وقت جرمنی کے برطانوی زون میں تھیں۔ لہذا دسمبر 1946 میں امریکن جائینٹ ڈسٹری بیوشن کمیٹی [جائینٹ] نے بنیادی طور پر مجھے پولینڈ سے باہر اسمگل کر کے چیکوسلواکیہ پہنچا دیا اور پھر چیکوسلواکیہ سے امریکی زون میں اور اُس کے بعد امریکی زون سے جرمنی میں برطانوی زون میں پہنچا دیا۔ بعد میں میں اپنی والدہ سے جا ملا۔ اور وہاں بریہا ["فلائیٹ"] کے ساتھ مشترکہ کام کرنے والی کمیٹی نے سرحد پر بہت سے لوگوں کو رشوت دی اور اس طرح میں 1946 میں جرمنی آ سکا۔ یہ اپنی والدہ سے بچھڑنے کے پورے تین برس بعد ممکن ہوا۔

ٹامس کا خاندان 1938 میں زیلینا چلا گیا۔ جب سلواک ہلنکا گارڈ نے یہودیوں کو ہراساں کرنا شروع کیا تو اس خاندان نے وہاں سے چلے جانے کا فیصلہ کیا۔ آخر میں ٹامس اور اس کا خاندان پولنڈ میں داخل ہوا لیکن 1939 میں جرمنی کے حملے نے اُنہیں برطانیہ جانے سے روک دیا۔ یہ خاندان کیلچ پہینچ گیا جہاں اپریل 1941 میں ایک یہودی بستی قائم ہوئی تھی۔ جب کیلچ یہودی بستی کو اگست 1942 میں ختم کر دیا گیا تو ٹامس اور اس کے خاندان نے ٹریبلنکا میں جلاوطن کئے جانے سے خود کو بچا لیا۔ اُس مہینے کے دوران بستی کے مکینوں کو وہاں بھجوایا جا رہا تھا۔ اس کے بجائے اُنہیں ایک جبری مشقت کے کیمپ میں بھیج دیا گيا۔ وہاں سے اُنہیں اور اُن کے والدین کو اگست 1944 میں آشوٹز کیمپ بھجوا دیا گیا۔ جنوری 1945 میں جب سوویت فوجوں نے پیش قدمی شروع کی تو ٹامس اور دوسرے قیدیوں کو آشوٹز کیمپ سے موت کے مارچ پر مجبور کر دیا گیا۔ اُنہیں جرمنی کے ساخسین ھاؤسن کیمپ بھجوا دیا گیا۔ اپریل 1945 میں سوویت یونین نے جب ساخسین ھاؤسن کیمپ کو آزاد کرایا تو ٹامس کو ایک یتیم خانے میں داخل کرا دیا گیا۔ رشتہ داروں نے بعد میں اُنہیں ڈھونڈ نکالا اور وہ گوئٹنگن میں اپنی والدہ سے جا ملے۔ وہ 1951 میں امریکہ منتقل ہو گئے۔

— US Holocaust Memorial Museum - Collections

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.