United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ذاتی تاریخ

میسو (مائیکل) ووگل
پیدا ہوا: 1923, جاکوس، چیکوسلواکیہ

آش وٹز۔ برکیناؤ میں لاشیں جلانے کی بھٹی کا منظر۔ [انٹرویو: 1989]

مکمل نقل:

لیکن درحقیقت کیمپ خود ہی موت کا کارخانہ تھا۔ برکیناؤ میں لاشیں جلانے کی چار بھٹیاں اور دو گیس چیمبر تھے۔ دو لاش بھٹیاں اور دو گیس چیمبر سڑک کے ایک طرف تھے اور دو گیس چیمبر اور دو لاش بھٹیاں سڑک کے دوسری طرف واقع تھیں۔ ریل کی پٹریاں لاش بھٹیوں کے عین قریب تک جاتی تھیں۔ اور پورا کیمپ سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ آپ صرف دھواں ہی نہیں بلکہ چمنی سے نکلنے والے شعلے بھی دیکھ سکتے تھے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب وہ ہڈیوں کے پنجروں کو جلا رہے تھے تو صرف دھواں اُٹھتا تھا۔ لیکن جب وہ ایسے موٹے لوگوں کی لاشوں کو جلاتے جن کے جسموں پر کچھ گوشت باقی تھا تو شعلے بھی نکلتے تھے۔

لیکن درحقیقت کیمپ خود ہی موت کا کارخانہ تھا۔ برکیناؤ میں لاشیں جلانے کی چار بھٹیاں اور دو گیس چیمبر تھے۔ دو لاش بھٹیاں اور دو گیس چیمبر سڑک کے ایک طرف تھے اور دو گیس چیمبر اور دو لاش بھٹیاں سڑک کے دوسری طرف واقع تھیں۔ ریل کی پٹریاں لاش بھٹیوں کے عین قریب تک جاتی تھیں۔ اور پورا کیمپ سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔ آپ صرف دھواں ہی نہیں بلکہ چمنی سے نکلنے والے شعلے بھی دیکھ سکتے تھے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ جب وہ ہڈیوں کے پنجروں کو جلا رہے تھے تو صرف دھواں اُٹھتا تھا۔ لیکن جب وہ ایسے موٹے لوگوں کی لاشوں کو جلاتے جن کے جسموں پر کچھ گوشت باقی تھا تو شعلے بھی نکلتے تھے۔

میسو کا خاندان ٹوپولکنی میں رہتا تھا۔ ہلنکا گارڈ (سلاوک فسطائی) نے 1939 میں قصبے پر قبضہ کرلیا۔ 1942 میں میسو کو سلاوک کے تحت چلنے والے نوواکی کیمپ میں جلاوطن کردیا گیا۔ اسی سال بعد میں اُنہیں پولینڈ کے آش وٹز کیمپ میں بھجوا دیا گیا۔ پہلے اُنہیں بونا میں جبری مشقت پر مجبور کیا گیا اور پھر برکیناؤ "کاناڈا" ڈی ٹیچمنٹ پر کام پر معمور کر دیا گیا جہاں وہ آنے والی ریل گاڑیوں سے سامان نکالنے کا کام کرتے تھے۔ 1944 کے آخر میں جب اتحادیوں نے پیش قدمی کی تو قیدیوں کو جرمنی کے کیمپوں میں منتقل کردیا گیا۔ میسو لینڈزبرگ سے موت کے ایک مارچ کے دوران بچ کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے اور پھر امریکی فوجیوں نے اُنہیں آزاد کرا لیا۔

— US Holocaust Memorial Museum - Collections

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.