United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ذاتی تاریخ

آئرین ہزمے
پیدا ہوا: 1937, ٹیپلیٹزے، چیکوسلوالکیہ

یہ کلپ آشوٹز کیمپ میں طبی تجربات کی وضاحت کر رہا ہے۔ [انٹرویو: 1995]

مکمل نقل:

اس میں کوئی شک نہیں کہ بد قسمتی سے میرے پاس ہسپتال اور ڈاکٹروں کے دفتر کی بہت سی یادیں ہیں۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ میں نے وہاں بہت وقت گذارا تھا اورمیں ہسپتال میں اپنی موجودگي اور اپنے بہت زیادہ بیمار ہونے کو یاد کررہی ہوں۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب میں ڈاکٹروں کے دفتر میں گئی تھی اور انھوں نے میرا خون لیا تھا۔ اور یہ بہت ہی تکلیف دہ تھا کیونکہ یہ خون میری گردن کے بائیں جانب سے لیا گیا تھا۔ یہ یاد رکھنے والی ایک عجیب بات ہے۔ مجھے میری انگلی کی پور سے خون لینا بھی یاد ہے مگر وہ زیادہ تکلیف دہ نہیں تھا۔ مجھےپیمائش کرنے، وزن کرنے اور ایکسرے لینے کے لئے لمبی مدت تک بیٹھنا بھی یاد ہے۔ مجھے ایک کے بعد ایک اکسرے لینا یاد ہے اور انجیکشن لینا بھی یاد ہے۔ مجھے انجکشن یاد ہیں۔ پھر اس کے بعد میں بیمار ہوگئی۔ کیوں کہ اس کے بعد میں پھر ہسپتال میں تھی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ مجھے سخت بخار ہوا تھا کیوں کہ وہ لوگ میرا درجہ حرارت لے رہے تھے۔ کوئی تھا جو یہ کررہا تھا۔ مجھے حقیقت میں ڈاکٹروں سے نفرت ہوگئی۔ مجھے ڈر لگنے لگا۔ میں ان سے اتنا زیادہ ڈر گئي کہ اب تک اس خوف میں ہوں۔ وہ ایک ڈراؤنے خواب کی مانند تھے۔ ہسپتالوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بیمار ہونا تو اب ناقابل قبول ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ بد قسمتی سے میرے پاس ہسپتال اور ڈاکٹروں کے دفتر کی بہت سی یادیں ہیں۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ میں نے وہاں بہت وقت گذارا تھا اورمیں ہسپتال میں اپنی موجودگي اور اپنے بہت زیادہ بیمار ہونے کو یاد کررہی ہوں۔ مجھے وہ وقت یاد ہے جب میں ڈاکٹروں کے دفتر میں گئی تھی اور انھوں نے میرا خون لیا تھا۔ اور یہ بہت ہی تکلیف دہ تھا کیونکہ یہ خون میری گردن کے بائیں جانب سے لیا گیا تھا۔ یہ یاد رکھنے والی ایک عجیب بات ہے۔ مجھے میری انگلی کی پور سے خون لینا بھی یاد ہے مگر وہ زیادہ تکلیف دہ نہیں تھا۔ مجھےپیمائش کرنے، وزن کرنے اور ایکسرے لینے کے لئے لمبی مدت تک بیٹھنا بھی یاد ہے۔ مجھے ایک کے بعد ایک اکسرے لینا یاد ہے اور انجیکشن لینا بھی یاد ہے۔ مجھے انجکشن یاد ہیں۔ پھر اس کے بعد میں بیمار ہوگئی۔ کیوں کہ اس کے بعد میں پھر ہسپتال میں تھی۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ مجھے سخت بخار ہوا تھا کیوں کہ وہ لوگ میرا درجہ حرارت لے رہے تھے۔ کوئی تھا جو یہ کررہا تھا۔ مجھے حقیقت میں ڈاکٹروں سے نفرت ہوگئی۔ مجھے ڈر لگنے لگا۔ میں ان سے اتنا زیادہ ڈر گئي کہ اب تک اس خوف میں ہوں۔ وہ ایک ڈراؤنے خواب کی مانند تھے۔ ہسپتالوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور بیمار ہونا تو اب ناقابل قبول ہے۔

آئرین اور اُس کا جڑواں بھائی رین، رینیٹ اور رین گٹ مین کے نام سے پیدا ہوئے۔ ان جڑواں بچوں کی پیدائش کے تھوڑے ہی دنوں بعد یہ خاندان پراگ چلا گیا جہاں یہ لوگ اُس وقت رہائش پزیر ہوئے جب جرمنی نے بوہیمیا اور موراویا پر مارچ 1939 میں قبضہ کیا۔ کچھ مہینوں کے بعد فوجی وردی میں ملبوس جرمنوں نے ان کے والد کو گرفتار کر لیا۔ کئی دہائیوں کے بعد رین اور آئرین کو یہ معلوم ہوا کہ انکے والد کو آشوٹز کیمپ میں دسمبر 1941 میں قتل کردیا گيا تھا۔ رین، آئرین اور اُن کی والدہ کو تھیریسین شٹٹ کی یہودی بستی میں اور پھر آشوٹز کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔ آشوٹز کیمپ میں دونوں جڑواں بچوں کو الگ کر دیا گیا اور ان پر طبی تجربات کئے گئے۔ آئرین اور رین آشوٹز کیمپ سے آزاد ہونے کے بعد کچھ وقت تک الگ رہے۔ بچوں کو بچانے والی جماعت ریسکیو چلڈرن آئرن کو 1947 میں امریکہ لے آئی جہاں وہ 1950 میں رین سے دوبارہ ملی۔

— US Holocaust Memorial Museum - Collections

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.