United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ذاتی تاریخ

جارج سالٹن
پیدا ہوا: 1928, پرزیمیسل، پولنڈ

امریکی فوجوں کی مدد سے حاصل ہونے والی آزادی کا منظر۔ [انٹرویو: 1995]

مکمل نقل:

میں اس سمت کی طرف دوڑا اور جیسے ہی میں اس جگہ پہنچا۔ میں نے بہت سے قیدیوں کو خوشی سے ناچتے کودتے اور چیختے سنا۔ وہاں کھڑے ہوئے لوگوں میں سات دیو قامت نوجوان تھے۔ وہ 18 یا 19 امریکی فوجی ہوں گے۔ ان میں سے سات یا آٹھ کیمپ کے اندر کھڑے ہوئے تھے۔ بظاہر انھوں نے تاریں کاٹیں اور کیمپ کے اندر داخل ہوئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ شدید حیرت زدہ ہوئے۔ ہر طرف پھیلی ہوئی گندگی اور بدبودار لوگ کود رہے تھے ناچ رہے تھے اور ان فوجیوں کو گلے لگانے اور ان کو چومنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ میں بھی بھیڑ میں شامل ہوگیا اور خوشی سے چیخیا اور چلایا اور جان گیا کہ آزادی کا دن آن پہنچا ہے۔ میرے لئے یہ ایک عجیب احساس تھا۔ کیونکہ جیسا کہ مجھے یاد ہے کہ جہاں ایک طرف میں غیر متوقع طور پر پراُمید آزادی کے لمحات کا سامنا کر رہا تھا تو دوسری طرف میری خوشی کا وہ عالم تھا کہ میں اس کو بیان بھی نہیں کرسکتا۔ میں جانتا تھا کہ میں آزاد ہوں مگر میں اِس پر بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔ ایک لحاظ سے میں نہیں جانتا تھا کہ اِس کا مطلب کیا ہے۔ تاہم مجھے احساس تھا کہ یہ زبردست بات ہے۔ لیکن میں بے انتہا خوش تھا کیونکہ میرے ارد گرد تمام لوگ بہت خوش تھے۔ وہ گا رہے تھے، ناچ رہے تھے۔ میں صرف 17 برس کا تھا۔ میں آزاد تھا۔ لیکن آزادی کا مطلب کیا تھا مجھے یقین سے اِس بارے میں کچھ پتہ نہ تھا۔

میں اس سمت کی طرف دوڑا اور جیسے ہی میں اس جگہ پہنچا۔ میں نے بہت سے قیدیوں کو خوشی سے ناچتے کودتے اور چیختے سنا۔ وہاں کھڑے ہوئے لوگوں میں سات دیو قامت نوجوان تھے۔ وہ 18 یا 19 امریکی فوجی ہوں گے۔ ان میں سے سات یا آٹھ کیمپ کے اندر کھڑے ہوئے تھے۔ بظاہر انھوں نے تاریں کاٹیں اور کیمپ کے اندر داخل ہوئے۔ ہمیں دیکھ کر وہ شدید حیرت زدہ ہوئے۔ ہر طرف پھیلی ہوئی گندگی اور بدبودار لوگ کود رہے تھے ناچ رہے تھے اور ان فوجیوں کو گلے لگانے اور ان کو چومنے کی کوشش کررہے تھے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ میں بھی بھیڑ میں شامل ہوگیا اور خوشی سے چیخیا اور چلایا اور جان گیا کہ آزادی کا دن آن پہنچا ہے۔ میرے لئے یہ ایک عجیب احساس تھا۔ کیونکہ جیسا کہ مجھے یاد ہے کہ جہاں ایک طرف میں غیر متوقع طور پر پراُمید آزادی کے لمحات کا سامنا کر رہا تھا تو دوسری طرف میری خوشی کا وہ عالم تھا کہ میں اس کو بیان بھی نہیں کرسکتا۔ میں جانتا تھا کہ میں آزاد ہوں مگر میں اِس پر بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔ ایک لحاظ سے میں نہیں جانتا تھا کہ اِس کا مطلب کیا ہے۔ تاہم مجھے احساس تھا کہ یہ زبردست بات ہے۔ لیکن میں بے انتہا خوش تھا کیونکہ میرے ارد گرد تمام لوگ بہت خوش تھے۔ وہ گا رہے تھے، ناچ رہے تھے۔ میں صرف 17 برس کا تھا۔ میں آزاد تھا۔ لیکن آزادی کا مطلب کیا تھا مجھے یقین سے اِس بارے میں کچھ پتہ نہ تھا۔

جارج کو امریکی فوجیوں نے مئی 1945 میں آزاد کرایا۔ اُنہوں نے جنگ کے دوران دس مختلف حراستی کیمپوں میں تین سال کاٹے۔ وہ 1945 میں جرمنی کے وییبلن کیمپ میں تھے۔ آزادی کے بعد اُنہوں نے دو سال تک بے دخل افراد کے مختلف کیمپوں میں گزارے۔ جارج اکتوبر 1947 میں امریکہ چلے آئے۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.