United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

ذاتی تاریخ

بینجمن (بیرل) فیرنز
پیدا ہوا: 1920, ٹرانسیلوانیہ، رومانیہ

اِس کلپ میں موت کے مارچ کی شہادتیں جمع کرنے کی عکاسی کی گئی ہے۔ [انٹرویو: 1994]

مکمل نقل:

کیمپ آزاد ہونے کے قریب ہی تھے کہ جرمنوں نے ان بچے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی جو چلنے اور کام کرنے کے قابل تھے۔ انھوں نے بیمار اور معذور لوگوں کو مرنے کے لئے اپنے پیچھے چھوڑ دیا۔ لیکن اُنہوں نے انہیں مارچ کراتے ہوئے باہر نکال دیا۔ وہ مارچ کر رہے تھے۔ میرے خیال میں یہ موت کا مارچ فلوسنبرگ سے ڈاخو یا ان میں سے کسی ایک کیمپ کی جانب تھا۔ وہ اُنہیں رات کے وقت جنگل کے راستے سے لیکر نکلے۔ اگر ان میں سے کوئی راستے میں ڈگمگاتا یا لڑکھڑاتا تو وہ اسے فوراً گولی مار دیتے۔ اگر ان میں سے کوئی آلو یا کوئی اور کھانے کی چيز اٹھانے کے لئے رکتا تو وہ اسے بھی گولی مار دیتے۔ میں اُسی راستے سے گزرتے ہوئے جنگل میں اجتماعی قبروں سے گزرتا رہا --10، 20، 30، 50 لوگ مارے گئے ہوں گے۔ اور مجھے قریبی کسانوں سے جاکر کہنا پڑا۔ "اِنہیں کھود کر باہر نکالو۔" اُنہوں نے کہا "اوہ ہاں، ہم نے پچھلی رات یہاں فائرنگ کی آواز سنی تھی۔ گولیاں چل رہی تھیں۔" "یہ کہاں تھا؟" "وہاں ان جنگلوں میں۔" میں نے کہا "آؤ چلیں۔" ہم وہاں ان جنگلوں میں جاتے۔ وہاں ایک نیا کھودا ہوا گڑھا موجود ہوتا۔ میں نے کہا "کچھ بیلچے لے لو"۔ پھر میں کچھ جرمنوں کو سڑک پر روکتا اور ان سے کہتا "بیلچے لو اور یہ گڑھا کھودو۔" یوں ہم اُن لوگوں کی لاشیں باہر نکالتے جنہیں سر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تقریبا ساری لاشوں کے سروں کا اوپر والا حصہ غائب تھا۔ اُنہیں پیچھے سے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ان میں سے کچھ اس حالت میں بھی بندھے پڑے تھے اور ان لاشوں کو ایسے ہی اوپر سے ڈھانک دیا گیا تھا تقریبا چھ انچ مٹی میں۔ لہذا میں پورے راستے اس طرح کے خوفناک جرائم کے مناظر کا مشاہدہ کرتا رہا۔

کیمپ آزاد ہونے کے قریب ہی تھے کہ جرمنوں نے ان بچے ہوئے لوگوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی جو چلنے اور کام کرنے کے قابل تھے۔ انھوں نے بیمار اور معذور لوگوں کو مرنے کے لئے اپنے پیچھے چھوڑ دیا۔ لیکن اُنہوں نے انہیں مارچ کراتے ہوئے باہر نکال دیا۔ وہ مارچ کر رہے تھے۔ میرے خیال میں یہ موت کا مارچ فلوسنبرگ سے ڈاخو یا ان میں سے کسی ایک کیمپ کی جانب تھا۔ وہ اُنہیں رات کے وقت جنگل کے راستے سے لیکر نکلے۔ اگر ان میں سے کوئی راستے میں ڈگمگاتا یا لڑکھڑاتا تو وہ اسے فوراً گولی مار دیتے۔ اگر ان میں سے کوئی آلو یا کوئی اور کھانے کی چيز اٹھانے کے لئے رکتا تو وہ اسے بھی گولی مار دیتے۔ میں اُسی راستے سے گزرتے ہوئے جنگل میں اجتماعی قبروں سے گزرتا رہا --10، 20، 30، 50 لوگ مارے گئے ہوں گے۔ اور مجھے قریبی کسانوں سے جاکر کہنا پڑا۔ "اِنہیں کھود کر باہر نکالو۔" اُنہوں نے کہا "اوہ ہاں، ہم نے پچھلی رات یہاں فائرنگ کی آواز سنی تھی۔ گولیاں چل رہی تھیں۔" "یہ کہاں تھا؟" "وہاں ان جنگلوں میں۔" میں نے کہا "آؤ چلیں۔" ہم وہاں ان جنگلوں میں جاتے۔ وہاں ایک نیا کھودا ہوا گڑھا موجود ہوتا۔ میں نے کہا "کچھ بیلچے لے لو"۔ پھر میں کچھ جرمنوں کو سڑک پر روکتا اور ان سے کہتا "بیلچے لو اور یہ گڑھا کھودو۔" یوں ہم اُن لوگوں کی لاشیں باہر نکالتے جنہیں سر پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ تقریبا ساری لاشوں کے سروں کا اوپر والا حصہ غائب تھا۔ اُنہیں پیچھے سے گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ ان میں سے کچھ اس حالت میں بھی بندھے پڑے تھے اور ان لاشوں کو ایسے ہی اوپر سے ڈھانک دیا گیا تھا تقریبا چھ انچ مٹی میں۔ لہذا میں پورے راستے اس طرح کے خوفناک جرائم کے مناظر کا مشاہدہ کرتا رہا۔

بینجمن رومانیہ میں ٹرانسلوانیہ کے کارپیتھین پہاڑوں کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے۔ جب وہ ایک شیرخوار بچہ تھے اس وقت ان کا خاندان امریکہ منتقل ہوگیا۔ بینجمن ہارورڈ یونیورسٹی میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے جرائم سے متعلق قانون کی تعلیم حاصل کی۔ بینجمن نے ہارورڈ یونیورسٹی کے لاء اسکول سے 1943 میں تعلیم مکمل کی۔ وہ امریکہ کی طیارہ شکن بٹالین میں شامل ہو گئے۔ یہ بٹالین مشرقی یورپ میں اتحادی فوجوں کے حملوں کی تیاری کی غرض سے تربیت حاصل کررہی تھی۔ یورپ میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر بینجمن کوامریکی فوج کی جنگی جرائم کی تفتیش سے متعلق شعبے میں منتقل کردیا گیا۔ ان کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ نازی جنگی مجرمین کے خلاف ثبوت اکھٹا کریں اور انہیں پکڑیں۔ بعد میں وہ نیورمبرگ سے متعلق کارروائی کیلئے آئن سیٹزگروپین کیس میں امریکہ کے چیف پراسیکیوٹر بن گئے۔

— US Holocaust Memorial Museum - Collections

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.