Entire Site
Images
Videos
Audio
Geographies
Museum
Education
Research
History
Remembrance
Genocide
Support
Connect
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
تمام تصاویر
واپس
|
فونٹ ڈاؤن لوڈ کریں
[301-350/494]
صفحات:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں رول کال کے دوران ایس ایس کے ارکان اور پولیس اہلکار ایک دوسرے سے بات کر رہے ہیں۔
ایس ایس کے افسر بوخن والڈ حراستی کیمپ کے جنگلاتی علاقے میں قیدیوں کو پھانسی دینے کیلئے پھانسی گھاٹ کی تعمیر کی نگرانی کر رہے ہیں۔
اولمپک اسٹیڈیم میں، گیارھویں اولمپک کھیلوں کے دوران جرمن شائقین ایڈولف ہٹلر کو سلوٹ کر رہے ہیں۔
اولمپک اسٹیڈیم میں آمد پر ایک پر جوش ہجوم ایڈولف ہٹلر کا استقبال کر رہا ہے۔
نازی پراپیگنڈا فوٹو جس میں ایک "آرین" اور ایک سیاہ فام عورت کے درمیان دوستی کو ظاہر کیا گیا ہے۔
ایک قیدی رویے کی پہچان سے متعلق تجربے کے دوران کمپریشن چیمبر میں بے ہوش ہو گیا (اور بعد میں چل بسا)۔
جرمنی کے بلٹزکریج حملے کے بعد پولش دارلحکومت میں ملبے کے قریب سیگسمونڈ یادگار ایستادہ ہے۔
جرمن فوجیں وارسا کے مضافات میں۔
وارسا پر جرمن محاصرے کے دوران آدمی، عورتیں اور بچے دفاعی خندقیں کھود رہے ہیں۔
نازی فزیشن کارل کلوبرگ، جس نے آشوٹز کیمپ کے بلاک 10 میں قیدیوں پر طبی تجربات کئے۔
نازی طبی تجربے کے ایک شکار کو ڈاخاؤ حراستی کیمپ میں برفانی پانی میں ڈبو دیا گیا۔
ایک کمزور اور دبلی پتلی عورت یہودیوں کیلئے لازمی اسٹار آف ڈیوڈ والی بازو کی پٹیاں بیچ رہی ہے۔
وارسا یہودی بستی میں بغاوت کے دوران پکڑے جانے والے یہودیوں کو جبراً اسمبلی کے مقام کی جانب مارچ کرایا جا رہا ہے۔
قصبے نمیرنگ کے شہری امریکی فوجی حکام کے احکام پر بوخن والڈ حراستی کیمپ سے موت کے مارچ پر بھیجے جانے والے افراد کی قبریں کھود رہے ہیں۔
ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی آزادی کے فوراً بعد قیدیوں کی بیرکوں کا منظر۔
ھرٹا اوبرھاؤزر، جو ریونزبروئک حراستی کیمپ میں ایک ڈاکٹر تھا، نیورمبرگ میں ڈٖاکٹروں کے مقدمے کے دوران۔ اوبرھاؤزر کیمپ کے قیدیوں پر طبی تجربات کرنے کا قصور وار پایا گیا اور اسے 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ریون بروئک کیمپ میں طبی تجربات کا شکار ہونے والی ولادسلاوا کیرولیسکا۔ یہ اُن پولش خواتین میں سے ایک تھیں جو ڈاکٹروں کے مقدمے میں استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہوئیں۔
چار پولش عورتیں ڈاکٹروں کے مقدمے میں استغاثہ کی طرف سے گواہی دینے کیلئے نیورمبرگ ٹرین اسٹیشن پر پہنچی ہیں۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں ایس ایس کا چیف ڈاکٹر ولادیمار ھوون امریکی فوجی عدالت کے روبرو مقدمے کے دوران۔
برلن میں کتابوں کو نذر آتش کئے جانے کے دوران طلباء اور ایس اے کے ارکان گاڑی سے وہ کتابیں باہر نکال رہے ہیں جنہیں "غیر جرمن" قرار دیا گیا تھا۔
ایس ایس اہلکار ہتھیاروں کیلئے یہودیوں کی تلاشی لے رہے ہیں۔
وارسا یہودی بستی میں، یہودی بچے سوپ کے پیالوں کے ساتھ۔
وارسا یہودی بستی کا داخلی دروازہ۔ سائن بورڈ پر لکھا ہے، "وباء کا کوارنٹائن علاقہ: صرف رواں ٹریفک کو گذرنے کی اجازت ہے۔"
یہودی پولیس وارسا یہودی بستی کے خاردار داخلے کے مقام پر۔
پھیری والے پرانی عبرانی کتابیں بیچ رہے ہیں۔
ایک پولیش پولیس اہلکار یہودی بستی کی ایک رہائشی کے بیگ کی تلاشی لے رہا ہے۔
ایک پولش پولیس اہلکار وارسا یہودی بستی میں ایک یہودی رہائشی کے کاغذات کا معائنہ کر رہا ہے۔
آزادی کے بعد ڈاخاؤ حراستی کیمپ کا ایک منظر۔
ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی اولین تصویروں میں سے ایک میں بیرکوں اور گولہ بارود فیکٹری کا ایک منظر۔
آشوٹز۔ برکیناؤ میں ڈاکٹر جوزف کے طبی تجربات کا شکار بننے والے افراد۔
ریونز بروئیک حراستی کیمپ سے بچ جانے والی ایک قیدی کی متاثرہ ٹانگ سے متعلق ایک جنگی جرائم کی تحقیقاتی تصویر۔ یہ تصویر پولش سیاسی قیدی ہیلینا ہیگئر کی ہے۔
اینک فرینک پانچ سال کی عمر میں۔
این فرینک کے فوٹو ایلبم کا ایک صفحہ جس میں 1935 اور 1942 کے دوران لی گئی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔
مارگوٹ اور این فرینک، اُن کے خاندان کے نیدرلینڈ فرار ہونے سے پہلے۔
بارہ سالہ اینی فرینک اپنے اسکول کے ڈیسک پر۔
این فرینک اپنی والدہ اور بہن کے ساتھ۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ میں طبی عملہ ایک قیدی پر تجربات کر رہا ہے۔
ایک جرمن پولیس اہلکار ایک یہودی شخص پر روٹی کا ایک ٹکڑا وارسا گھیٹو میں سمگل کرنے کی کوشش کے حوالے سے پوچھ گچھ کر رہا ہے۔
بوخن والڈ حراستی کیمپ کے قریب جنگل میں قیدیوں کو پھانسی دی جا رہی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ یہودی تھے۔
اقوام متحدہ کے اہلکار حراستی کیمپ میں زندہ بچ جانے والے 11 سالہ بچے کو حفاظتی ٹیکے لگا رہے ہیں جو آشوٹز کیمپ میں طبی تجربات کا شکار ہوا۔
ایک یہودی شخص گراموفون پر موسیقی بجا کر گزر بسر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ گراموفون ایک پرانی بچوں کی گاڑی میں رکھ کر جگہ جگہ لئے پھرتا تھا۔
ڈاخاؤ حراستی کیمپ کے ذیلی کیمپ ایمپفنگ میں زندہ بچ جانے والے قیدی امریکی فوجیوں کی طرف سے آزادی دلائے جانے کے بعد۔
برلن اوپرن پلاٹز میں ایس اے کے اہلکاروں اور یونیورسٹیوں اور کالجوں کے طلباء کی طرف سے برلن میں "غیر جرمن" قرار دی جانے والی کتابوں اور دیگر اشاعتی مواد کو نظر آتش کیا جا رہا ہے۔
برلن میں کتابیں نظر آتش کی جا رہی ہیں۔ جرمنی، 10 مئی، 1933 ۔
برلن میں کتابوں کو نذر آتش کئے جانے کے دوران طلباء اور ایس اے کے اہلکار ہاتھوں میں "غیر جرمن" قرار دیا گیا اشاعتی مواد اُٹھائے ہوئے ہیں۔
جرمن بچے سام دشمن پراپیگنڈہ پر مبنی کتاب دیئر گفٹپلز ("زہریلی کھمبیاں") پڑھ رہے ہیں۔
جرمنی بھر میں طلباء ٹرکوں، فرنیچر کی گاڑیوں حتٰی کہ بیل گاڑیوں پر کتابیں لاد کر نظرِ آتش کرنے کیلئے عوامی چوراہوں پر ڈھیر کر دیتے تھے۔
اوپرنپلاٹز میں "غیر جرمن" کتابوں کو کھل عام نذر آتش کیا جا رہا ہے۔
ہیمبرگ میں، ایس اے کے ارکان اور یونیورسٹی آٖف ہیمبرگ کے طلباء وہ کتابیں نذر آتش کر رہے ہیں جنہیں وہ "غیر جرمن" گردانتے تھے۔
اوپرنپلاٹز میں "غیر جرمن" کتابوں کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔
[301-350/494]
صفحات:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10