United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا

 

 

 

تاریخی فلم فوٹیج

آشوٹز کی آزادی

پولینڈ, 1945
[انگریزی, 1:10]

مکمل نقل:

آشوٹز میں رہنے والے آزاد کرائے گئے 2،819 بچوں میں سے 180 ؛ جن میں سے 52 بچے 8 سال سے کم عمر کے تھے۔ وہ اس جہنم سے کیسے بچ سکے؟ وہ اسلئے بچنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ وہ چوہوں اور خرگوشوں کے بجائے طبی تجربات کیلئے استعمال کی خاطر مطلوب تھے۔ جرمن قاتلوں کو جن کے پاس میڈیکل کی ڈگریاں تھیں خاص قسم کے بچے مطلوب تھے۔ وہ جڑواں بچوں پر تجربات کرنا چاہ رہے تھے۔ ڈاکٹر مینگلے اور ڈاکٹر شمٹ کی ریسرچ کیلئے سب سے خاص مواد جڑواں بچے ہی تھے۔ وہ بچے جو اس درجے سے تعلق نہیں رکھتے تھے انھیں آسانی سے قتل کر دیا جاتا تھا۔ شیر خوار بجوں کو نمبروں سے جانا جاتا تھا جو ان کے ہاتھوں پر لکھے ہوتے تھے۔

آشوٹز میں رہنے والے آزاد کرائے گئے 2،819 بچوں میں سے 180 ؛ جن میں سے 52 بچے 8 سال سے کم عمر کے تھے۔ وہ اس جہنم سے کیسے بچ سکے؟ وہ اسلئے بچنے میں کامیاب ہو گئے کیونکہ وہ چوہوں اور خرگوشوں کے بجائے طبی تجربات کیلئے استعمال کی خاطر مطلوب تھے۔ جرمن قاتلوں کو جن کے پاس میڈیکل کی ڈگریاں تھیں خاص قسم کے بچے مطلوب تھے۔ وہ جڑواں بچوں پر تجربات کرنا چاہ رہے تھے۔ ڈاکٹر مینگلے اور ڈاکٹر شمٹ کی ریسرچ کیلئے سب سے خاص مواد جڑواں بچے ہی تھے۔ وہ بچے جو اس درجے سے تعلق نہیں رکھتے تھے انھیں آسانی سے قتل کر دیا جاتا تھا۔ شیر خوار بجوں کو نمبروں سے جانا جاتا تھا جو ان کے ہاتھوں پر لکھے ہوتے تھے۔

27 جنوری 1945 کو سوویت فوجی پولینڈ میں آشوٹز کیمپ میں داخل ہوئے۔ اس سوویت فوجی فوٹیج میں ان بچوں کو دکھایا جا رہا ہے جن کو سوویت فوجیوں نے آشوٹز میں آزاد کرایا تھا۔ کیمپ کے فعال رہنے کے سالوں کے دوران آشوٹز میں نازی ڈاکٹر جوزف مینگلے نے بہت سے بچوں کو طبی تجربات کیلئے استعمال کیا۔

— National Archives - Film

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.