
ڈاکٹر جوزف جیکسی جنہوں نے جنگ کے دوران 25 یہودیوں کو بچایا۔ اُنہوں نے اُنہیں چُھپنے کی جگہیں، رقم، دوائیں اور جعلی شناختی دستاویزات فراہم کیں۔ جیکسی کو "قوموں کے درمیان راست باز" کا خطاب دیا گیا۔ چیکوسلواکیا، جنگ سے پہلے۔ تصویریں »
ڈاکٹر جوزف جیکسی (بائيں سے دائیں طرف) ویلیریا سورن، لیڈیا سورن اور اپنی بیوی کے ساتھ۔ سورن بہنیں اُن 25 یہودیوں میں شامل تھیں جنہیں ڈاکٹر جیکسی نے جنگ کے دوران بچایا۔ چیکوسلواکیا، تاریخ نامعلوم۔ تصویریں »
ڈنمارک کے چیف ربی ، ربی ماکوس میلخیور جنہوں نے اپنی تقریر سننے کیلئے اکٹھے ہونے والوں کو خبردار کیا کہ جرمن ڈنمارک کے یہودیوں کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں۔ میلخیور خود بھی روپوش ہو گئے اور پھر سویڈن فرار ہو گئے۔ کوپن ہیگن، ڈنمارک، 1943 سے پہلے۔ تصویریں »
ڈنمارک پر جرمن قبضہ کے دوران ڈینش ملاحوں (پیش منظر) نے یہودیوں کو تنگ خلیج کے راستہ سے حفاظت کے ساتھ غیرجانبدار سویڈن پہنچایا۔ سویڈن، 1943 تصویریں »
جرمن قبضے کے دوران ڈینش ملاحوں نے یہودیوں کو سویڈن میں حفاظت سے پہنچانے کیلئے یہ کشتی استعمال کی تھی۔ ڈنمارک، 1943 یا 1944۔ تصویریں »
مذہبی تنظیم امریکن فرینڈز سروس کمیٹی کے مندوبین جنہوں نے ٹولوز میں امدادی سرگرمیاں تشکیل دیں۔ فرانس، جنوری 1941 تصویریں »
حنا زینز، بوڈاپسٹ میں اپنے گھر کے باغ میں فلسطین جا کر امدادی مشن کے لئے چھاتا بردار کارکن بننے سے پہلے۔ بڈاپسٹ، ہنگری، 1939 سے پہلے۔ تصویریں »
بچوں کا ایک گروپ جسے جنوبی فرانس کے قصبے لی چیمبون۔ سر۔ لگنون میں پناہ دی گئی تھی۔ لی۔ چیمبون۔ سر۔ لگنون، فرانس، اگست 1942 ۔ تصویریں »
سٹیفینیا پوڈگورسکا (دائیں) کی اپنی چھوٹی بہن ہیلینا (بائیں) کے ساتھ ایک تصویر، اُنہوں نے جرمن مقبوضہ پولنڈ میں یہودیوں کو بچانے میں تعاون کیا۔ اُنہوں نے پرزیمسل گھیٹو میں یہودیوں کو خوراک فراہم کی۔ 1943 میں جرمنوں کی طرف سے گھیٹو کو تباہ کر دینے کے بعد اُنہوں نے 13 یہودیوں کو اپنے ایٹک میں چھپا کر بچا لیا۔ پرزیمسل، پولینڈ، 1944۔ تصویریں »
ھیسیلٹ کے قریب مقام لب بیک کے ایک ڈومینکن کانونٹ میں نازیوں کے خوف سے چھپی چھ یہودی لڑکیاں۔ بیلجیم، اکتوبر 1942 اور اکتوبر 1944 کے درمیان۔ تصویریں »
ڈرک اوٹن کی شناختی تصویر جنہوں نے خود کو بچانے کیلئے اپنا شناختی کارڈ ایک یہودی کو دے دیا۔ اوٹن اور اُن کے شوہر نے ایک وقت میں 50 سے زیادہ یہودیوں کو اپنے گھر میں چھپایا۔ نیولینڈ، نیدر لینڈ، تاریخ نامعلوم۔ تصویریں »
ایمسٹرڈیم میں ایک مکان جس میں ٹینا اسٹروبوس نے 100 سے زیادہ یہودیوں کو خاص طور پر تعمیر کی گئی چھپنے کی جگہ پرپناہ دی۔ اُن کے گھر پر آٹھ مرتبہ چھاپہ مارا گیا لیکن یہودیوں کا کبھی بھی سراغ نہ لگایا جا سکا۔ نیدرلینڈ، تاریخ غیر یقینی۔ تصویریں »
یوھینس پوسٹ نے نیو لینڈ میں 250 لوگوں پر مشتمل ایک نیٹ ورک تشکیل دیا جس نے یہودیوں کو ایمسٹرڈیم سے باہر اسمگل کیا اور ان کو پناہ گاہ اور شناختی دستاویزات فراہم کیں۔ اُنہیں 1965 میں "قوموں کے مابین راست باز" کے خطاب سے نوازا گیا۔ نیدرلینڈ، تاریخ نامعلوم۔ تصویریں »
گرٹروڈا بیبیلنسکا ایک یہودی لڑکے مئیکل اسٹولووٹزکی کے ساتھ جسے اُنہوں نے چھپایا تھا۔ یڈ واشیم نے اُن کو "قوموں کے درمیان راست باز" کے خطاب سے نوازا۔ ولنا، 1943 تصویریں »
ہرمائن اورسی نے اپنے گھر میں کئی یہودیوں کو پناہ دی اور دوسروں کو لی چیمبون۔ سر۔ لگنون کی پناہ گاہ میں پہنچنے میں مد د فراہم کی۔ یاد واشیم نے اُنہیں "قوموں کے درمیان ایک راست باز" قرار دیا۔ مارسیلی، فرانس، 1940 تصویریں »
نیدرلینڈ کے شہر یڈ واشم میں یہودی بچوں کو چھپانے پر کالوینسٹ منسٹر جیرارڈس پونٹیر اور اُن کی بیگم ڈورا وارٹیما کو تعظیم دی گئی۔ پونٹیر اور وارٹیما کو "قوموں کے درمیان راست باز" کا اعزاز عطا کیا گیا۔ یروشلم، اسرائیل، 1968 ۔ تصویریں »
برٹ اور این بوخوو جنھوں نے ایمسٹرڈیم کے مضافاتی علاقے ھوئزین میں اپنی فارمیسی میں 37 یہودیوں کو چھپائے رکھا، یہاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ۔ ان دونوں کو "قوم کے راست باز لوگوں" کا خطاب دیا گیا۔ نیدرلنڈ، 1944 یا 1945۔ تصویریں »
سیمی وورٹمین۔ گلاسوگ ایک ۹ ماہ کی یہودی بچی لئینٹجے کے ساتھ جسے اُنہوں نے چھپا لیا تھا۔ وورٹمین۔ گلاسوگ اُس نیٹ ورک میں بہت فعال تھیں جس نے یہودی بچوں کیلئے فاسٹر ھوم، چھپنے کی جگہیں اور جعلی شناختی دستاویزات فراہم کیں۔ بعد میں اُنہیں "قوموں میں راست باز" کا خطاب دیا گیا۔ ایمسٹرڈیم، نیدرلینڈ، 1942 اور 1944 کے درمیان۔ تصویریں »