
امریکی فوج کا عملہ جرمن دستاویزات کو ترتیب دے رہا ہے۔ یہ دستاویزات جنگی جرائم کے تحقیق کاروں نے ثبوت کے طور پر بین الاقوامی فوجی عدالت میں پیش کرنے کیلئے اکٹھی کی تھیں۔ تصویریں »
امریکہ قانونی مشیر اعلٰی جسٹس رابرٹ جیکسن بین الاقوامی فوجی عدالت میں استغاثہ کی طرف سے ابتدائی بیان ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ نیورمبرگ، جرمنی،21 نومبر، سن 1945۔ تصویریں »
ملزم اور اُن کے وکلائے صفائی بین الاقوامی فوجی عدالت کے کمرے میں۔ تصویریں »
نیورمبرگ مقدموں کی سرکاری زبانیں انگریزی، فرانسیسی ، روسی اور جرمن تھیں۔ ترجمہ کرنے والے مقدمے کی کارروائی کا بیک وقت ترجمہ فراہم کرتے تھے۔ یہاں وہ مقدمے کے دوران شرکاء کیلئے سوئچ بورڈ کے ذریعے ترجمہ فراہم کر رہے ہیں۔ نیورمبرگ، جرمنی، نومبر 1945۔ تصویریں »
پیلس آف جسٹس میں بین الاقوامی فوجی عدالت میں اعلٰی سطحی نازی لیڈروں کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمے کی سماعت۔ نیورمبرگ، جرمنی، 2 دسمبر 1945۔ تصویریں »
لوگ "نرنبرگر" اخبار کے ایک خاص ایڈیشن کو پڑھنے کیلئے سڑک پر جمع ہیں۔ اِس اخبار میں بین الاقوامی فوجی عدالت کی طرف سے سزائیں سنانے کی خبر دی گئی ہے۔ یکم اکتوبر 1946۔ تصویریں »
ڈاکٹروں کے مقدمے کے دوران ڈیفنس کونسل کے ممبران اور مدعا علیہان کا کٹہرا۔ نیورمبرگ، جرمنی، 9 دسمبر، 1946-20اگست 1947۔ تصویریں »
مدعا علیہ کارل برانڈٹ ڈاکٹر کے مقدمہ کے دوران شہادت دے رہے ہیں۔ نیورم برگ، جرمنی، 9 دسمبر 1946- 20 اگست 1947۔ تصویریں »
ڈاکٹروں کے مقدمے کے دوران کاؤنسل کے چیف بریگیڈیر جنرل ٹیلفورڈ ٹیلر۔ نیورمبرگ، جرمنی، 9 دسمبر، 1946- 20 اگست 1947۔ تصویریں »
روشا مقدمے میں پندرہ سالہ ڈولیزلووا استغاثہ کے گواہ کی حیثیت سے حلف اُٹھا رہی ہیں۔ ڈولیزلووا اُن بچوں میں شامل تھیں جنہیں جرمن فوجیوں نے چیکوسلواکیا کے قصبے لیڈی سی کو تباہ کرنے کے بعد اغوا کرلیا تھا۔ نیورمبرگ، 30اکتوبر1947۔ تصویریں »
مدعا علیہان انصاف کے مقدمے کے دوران کٹہرے میں۔ تصویریں »
مدعا علیہ اوٹو اوہلین ڈورف آئن سیٹس گروپن کے مقدمے میں اپنے حوالے سے گواہی دے رہے ہیں۔ 9 اکتوبر 1947۔ تصویریں »
جنگی جرائم کے چیف کونسل امریکی بریگیڈیر جنرل ٹیل فورڈ ٹیلر استغاثہ کا ابتدائی بیان پڑھتے ہوئے وزارتوں کے مقدمے کا آغاز کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے ہٹلر کے وزراء پر "انسانیت کے خلاف جرائم" کا مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا۔ نیورمبرگ، جرمنی، 6 جنوری 1948۔ تصویریں »