
سوڈی تینلینڈ پر جرمنی کے قبضے کے بعد سوڈی ٹینلینڈ سے پناہ گزیں پراگ پہنچ رہے ہیں۔ پراگ، چیکوسلواکیہ، اکتوبر 1938۔ تصویریں »
آسٹرین یہودی پناہ گزیں بچے، بچوں کی ٹرانسپورٹ (کنڈرٹرانسپورٹ) میں سے ایک کے رکن، لندن کے ایک ٹرین اسٹیشن پر پہنچے۔ برطانیہ، 2 فروری 1939۔ تصویریں »
"سینٹ لوئس" پر سوار مسافر۔ نازی جرمنی کے اِن پناہ گزینوں کو مجبوراً یورپ لوٹنا پڑا جب کیوبا اور امریکہ دونوں نے اُنہیں ریفیوجی کا درجہ دینے انکار کر دیا۔ مئی یا جون 1939۔ تصویریں »
جرمن یہودی پناہ گزیں شنگھائی کی بندرگاہ پر اتر رہے ہیں۔ یہ ان چند جگہوں میں سے ایک تھی جہاں ویزا مطلوب نہیں تھا۔ شنگھائی، چین، 1940 تصویریں »
یہودی پناہ گزیں امریکہ روانہ ہونے کیلئے ایس ایس موزن ھو جہاز پر سوار ہو رہے ہیں۔ اِن پناہ گزینوں میں یہودی بچوں کا ایک گروپ بھی شامل تھا جسے کچھ ہی دیر قبل فرانس کے حراستی کیمپوں سے آزاد کرایا گیا تھا۔ لزبن، پرتگال، سی اے۔ 10 جون 1941۔ تصویریں »
ایسفالٹ میں میسن ڈیس پوپلس ڈے لا نیشن یتیم خانے میں یہودی پناہ گزین بچے۔ یہ بچے چلڈرنز ایڈ سوسائٹی (اوورے ڈی سیچورز اوکس اینفانٹس؛ او۔ایس۔ای) اور امریکن فرینڈز سروس کمیٹی کی کوششوں سے یتیم خانے پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ایسپیٹ، فرانس، سی۔ اے۔ 1942. تصویریں »
یہودی پناہ گزیں ایک بھری ہوئی باکس کار میں امریکی مقبوضہ علاقے میں واقع ایک بے گھر افراد کے کیمپ کی طرف جاتے ہوئے۔ یہ یہودی پناہ گزیں بریہا (بعد از جنگ مشرقی یورپ سے بڑی تعداد میں یہودیوں کے انخلاء) کا حصہ تھے۔ جرمنی، 1945 یا 1946۔ تصویریں »
برطانوی فوجی (یہودی جھنڈے میں لپٹی ہوئی) ایک پناہ گزین کی لاش کو ہٹا رہے ہیں جو پناہ گزینوں کے "تھیوڈور ہرزل" نامی جہاز میں اُس وقت مار دیا گیا جب یہ جہاز برطانوی بحریہ کے ناکہ بندی کے علاقے سے زبردستی گزرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہیفہ بندرگاہ، فلسطین، 14 اپریل 1947۔ تصویریں »