United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں: وارسا یہودی بستی کی بغاوت
28 جولائی 1942
یہودی عسکریت پسند تنظیم قائم ہوگئی

وارسا کی یہودی بستی سے ٹریبلنکا کی قتل گاہ تک جلاوطنی کے پہلے مرحلے کے دوران یہودی عسکریت پسند تنظیم (زیڈ او بی، زائیڈوسکا آرگنازیکجا بوجووا) قائم کی گئی۔ 22 جولائی 1942 کو جرمنوں نے جلاوطنیوں کا سلسلہ شروع کیا جو بلا رکاوٹ 12 ستمبر 1942 تک جاری رہا۔ اس دوران یہودی بستی سے تقریبا ڈھائی لاکھ یہودیوں کو جلاوطن یا قتل کردیا گیا۔ یہودی نوجوانوں کی تنظیموں نے زیڈ او بی قائم کرکے یہودی بستی کے یہودیوں سے جلاوطنی کی مزاحمت کرنے کیلئے کہا۔ گشتی قاتل یونٹس اور قتل گاہوں میں یہودیوں کے قتل عام کی اطلاعات پہلے ہی یہودی بستی میں پہنچ چکی تھیں۔ تاہم ابھی زیڈ او بی بغاوت کرنے کے لئے تیار نہيں تھی۔ ستمبر میں جلاوطنیاں ختم ہونے کے بعد، زیڈ او بی نے خفیہ سیاسی تنظیموں کے اراکین کو بھی شامل کرلیا اور تربیت، ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے والے پولش مزاحمتی گروپوں کے ساتھ روابط قائم کئے۔ مارڈیکائی اینئیلاوچ کو کمانڈر مقرر کر دیا گیا۔

18 سے 21 جنوری 1943
جرمنوں کی طرف سے مزاحمت کا مقابلہ

جرمنوں نے وارسا یہودی بستی سے جلاوطنیاں دوبارہ شروع کردیں۔ تاہم اس بار انہيں زیڈ او بی (یہودی عسکریت پسند تنظیم; زائیڈوسکا آرگنائیزیکجا بوجووا) کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ صبح سویرے کی پکڑ دھکڑ نے زیڈ او بی کو بالکل بوکھلا دیا اور لوگ جرمنوں کی مخالفت کے لئے سڑکوں پر نکل پڑے۔ یہودی بستی کے دوسرے یہودی پہلے سے تیار کردہ پناہ گاہوں میں جا چھپے۔ جرمن، جو اخراج میں کسی رکاوٹ کی توقع نہيں رکھ رہے تھے، اب مزاحمت سے بالکل ہکا بکا رہ گئے۔ انہوں نے 21 جنوری کو مرکزی چوراہے پر ایک ہزار یہودیوں کو قتل کرکے اپنا بدلہ تو لے لیا لیکن مزید جلاوطنیاں معطل کردیں۔ جرمن پانچ سے ساڑھے چھ ہزار یہودیوں کو جلاوطن یا قتل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ مزاحمتی کارروائی کے نتائج سے حوصلہ پا کر یہودی بستی کے یہودیوں نے ایک وسیع بغاوت کی منصوبہ بندی کرنا شروع کردی۔ جنگجو تنظیم متحد ہوگئی، حکمت عملیاں تیار کی گئيں، زیرزمین بنکر اور سرنگیں بنائی گئيں اور چھتوں پر گزرگاہيں تعمیر کی گئيں۔ وارسا کے یہودی بستی کے یہودیوں نے اختتام تک لڑنے کا فیصلہ کیا۔

16 مئی 1943
یہودی بستی کو تباہ کردیا گیا اور بغاوت ختم ہوگئی

لڑائی کے ایک مہینے بعد جرمنوں نے وارسا میں یہودیوں کی جامع عبادت گاہ کو دھماکے سے اڑا کر بغاوت کے اختتام اور یہودی بستی کی تباہی کا اشارہ دے دیا۔ 19 اپریل 1943 کو ایس ایس کے جرنیل جویرگن اسٹروپ کے حکم کے تحت جرمنوں نے یہودی بستی کی آخری تباہی اور باقی یہودیوں کی جلاوطنی شروع کردی۔ تاہم یہودی بستی کے مکین جلاوطنیوں کے لئے حاضر نہ ہوئے۔ اس کے بجائے، یہودی بستی کی جنگجو تنظیموں نے اپنے آپ کو عمارتوں اور بنکروں میں بند کرکے جرمنوں کے خلاف مزاحمت کرنے کی تیاری کررکھی تھی۔ تین دن کے بعد جرمن افواج نے یہودیوں کو اپنے چھپنے کی جگہوں سے باہر نکالنے کے لئے یہودی بستی کی ایک کے بعد ایک عمارت کو آگ لگانی شروع کردی۔ یہودی بستی کو راکھ کا ڈھیر بنانے کے دوران بھی مزاحمت ہفتوں تک جاری رہی۔ جنوری 1943 کی جلاوطنیوں کے بعد یہودی بستی میں صرف پچاس ہزار یہودی باقی رہنے کے باوجود جرنیل اسٹروپ نے یہودی بستی کی تباہ کاری کے نتیجے میں 56065 یہودی کی گرفتاری کی اطلاع دی؛ ان میں سے سات ہزار کو ٹریبلنکا کی قتل گاہ میں جلاوطن کردیا گیا اور باقی کو جبری مزدوری کے کیمپس اور مجدانیک کی قتل گاہ بھیج دیا گيا۔ کچھ مزاحمتی جنگجو یہودی بستی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وارسا کے گرد جنگلوں میں حلیف گروہوں میں شمولیت اختیار کرلی۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.