29 اگست 1943
ڈنمارک کی حکومت مستعفی
جرمنی نے 9 اپریل 1940 کو ڈنمارک پر قبضہ کرلیا۔ ڈنمارک اور جرمنوں کے درمیان ایک معاہدے کے تحت ڈنمارک کی حکومت اور فوج قائم رہی۔ قبضے کے باوجود، جرمنوں نے ڈنمارک سے جلاوطنی کا عمل شروع نہيں کیا۔ 1943 کے موسم گرما میں حمایتیوں کی فوج کے آگے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈنمارک میں ہڑتالوں اور تخریب کاری کی صورت میں مخالفتی سرگرمیاں بڑھتی رہیں۔ تاہم ان اعمال کی وجہ سے قابض جرمن فوجوں اور ڈنمارک کی حکومت کے درمیان تناؤ پیدا ہوگیا۔ اگست 1943 ميں جرمنوں نے ڈینش حکومت سے مخالفت ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ڈینش حکومت نے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا اور استعفی دے دیا۔ اس وقت جرمن قبضے کو تین سال گزر گئے تھے۔ جرمنوں نے ڈنمارک کا انتظام سنبھال لیا اور یہودیوں کو گرفتار کرکے انہيں جلاوطن کیا اور "حتمی حل" پر عملدرآمد کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔ اس کے جواب میں ڈنمارک کے باشندوں نے ملک بھر میں بچاؤ کا عمل شروع کردیا۔ 2 اکتوبر 1943
سویڈن نے ڈنمارک کے یہودیوں کو پناہ کی پیش کش کی
برلن میں جرمن افسران کو پیش کی جانے والی ایک رپورٹ میں سویڈن کی حکومت نے ڈنمارک کے سات ہزار کے قریب یہودیوں کو پناہ کی پیش کش کی۔ ستمبر 1943 کے آخر میں ڈینش یہودیوں کی گرفتاری اور جلاوطنی سے متعلق جرمن منصوبے کی خبر ڈینش حکام کو ہوئی جس نے ڈنمارک کے یہودیوں کو خبردار کرکے چھپنے کی ترغیب دی۔ اس کے جواب میں ڈنمارک کی مخفی اور عام آبادی نے فوری طور پر یہودیوں کو خفیہ طور پر ساحل سمندر تک لے جانے کی کوشش شروع کردی تاکہ وہاں سے ڈينش ماہی گیر انہيں کشتیوں کے ذریعے سویڈن لے جا سکیں۔ تین ہفتوں سے بھی کم عرصے میں ڈنمارک کے باشندے سات ہزار سے زائد یہودیوں اور ان کے سات سو کے قریب رشتہ داروں کو سویڈن لے گئے۔ ڈنمارک کے باشندوں کی کوششوں کے باوجود بھی جرمنوں نے 500 کے قریب یہودیوں کو گرفتار کرکے تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی میں جلاوطن کردیا۔
23 جون 1944
ڈینش وفد تھیریسئن شٹٹ پہنچا
ایک ڈينش وفد نے بین الاقوامی ریڈ کراس کے نمائیندوں کے ساتھ بوہیمیا میں تھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی کا دورہ کیا۔ ان ملاقاتیوں اور دنیا کو یہودیوں کے ساتھ نازیوں کے سلوک کے متعلق دھوکا دینے کے لئے ایس ایس نے یہودی بستی کو خوبصورت بنا کر یہ ظاہر کروایا کہ تھیریسئن شٹٹ ایک خود مختار یہودی بستی ہے۔ تھیریسئن شٹٹ میں دوسرے قیدیوں کے برعکس وہاں کے 500 ڈينش قیدیوں کو حراستی کیمپوں میں جلاوطن نہيں کیا گيا اور انہيں ریڈ کراس سے پارسل وصول کرنے کی اجازت مل گئی۔ 15 اپریل 1945 کو ڈینش قیدیوں کو یہودی بستی سے رہا کرکے سویڈش ریڈ کراس کے حوالے کردیا گیا۔ یہ سویڈش حکومت کے نمائیندوں اور نازی افسران کے درمیان مذاکرات کا نتیجہ تھا جس میں کیمپوں میں اسکینڈینیویا سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو، جن میں یہودی شامل تھے، شمالی جرمنی میں ایک عارضی کیمپ میں منتقل کردیا گيا۔ ان قیدیوں کو آخرکار سویڈن بھیجا گیا جہاں وہ جنگ کے اختتام تک رہے۔ جلاوطن ہونے والے 500 سے قریب ڈينش یہودیوں میں سے تقریباً 450 زندہ بچ گئے۔