13 فروری 1943
فرانس کی یہودیوں کی مدد
کرنے پر پروٹیسٹنٹ پادری کو گرفتار کرلیا گيا
پادری آندرے ٹروکمے کو لی چیمبون۔ سر۔ لگنان میں گرفتار کرلیا گيا. چیوینال اسکول کے منتظیم اور جزوقتی منسٹر ایڈورڈ تھیئس اور لڑکوں کے سرکاری اسکول کے ڈائریکٹر راجر ڈارسیسیک کو بھی گرفتار کیا گيا۔ ان تینوں کو لیموگیس کے قریب سینٹ پال ڈی آئجیئکس کے کیمپ میں زیرحراست رکھا گیا۔ 1940 اور 1944 کے درمیان، ان آدمیوں نے پانچ ہزار سے زائد افراد کو، جن میں زیادہ تر یہودی تھے، پناہ فراہم کرنے کے لئے لی چیمبون۔ سر۔ لگنان کی پروٹسٹنٹ برادری کو رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے پناہ گزینوں کو گھروں، اسکولوں، کانوینٹس اور مقامی خانقاہوں میں چھپایا، جعلی شناختی کارڈ فراہم کئے اور پناہ گزینوں کو سرحد پار کروا کر غیرجانبدارار سوٹزرلینڈ بھی لے گئے۔ اپنی گرفتاری کے دورران ان تینوں نے دوسرے قیدیوں کے لئے پروٹیسنٹ خطبے اور مباحثوں کا کام جاری رکھا۔ گرفتاری کے ایک مہینے سے زیادہ کے بعد، تینوں کو رہائی کی پیش کش کی گئی۔ تاہم ان کو مارشل فیلیپ پیٹین سے وفاداری نبھانی تھی اور وکی فرانسیسی حکومت کے حکم کی اطاعت کرنے پر راضی ہونا تھا۔ ڈارسیسیک نے دستخط کردئے اور اسے فورا ہی رہا کردیا گیا۔ ٹروکمے اور تھیئس نے دستخط کرنے سے انکار کردیا کیونکہ یہ وفاداری ان کے عقائد کے خلاف تھی۔ تاہم انہيں اگلے دن رہا کردیا گيا۔ تینوں لی چیمبون۔ سر۔ لگنان واپس چلے گئے اور یہودیوں کو بچانے کا کام جاری رکھا۔ 4 اگست 1944
ایمسٹرڈیم میں چھپے ہوئے یہودی خاندان کو گرفتار کرلیا گيا
جب 1942 میں نیدرلینڈزسے پولینڈ کی قتل گاہوں میں جلاوطنی کا عمل شروع ہوا تو این فریکن اپنے گھر والوں اور چار دوسرے افراد کے ساتھ ایمسٹرڈیم میں بالائی منزل کے ایک خفیہ اپارٹمنٹ میں جا چھپی۔ اپنی جان جوکھوں میں ڈالنے والے کچھ دوستوں کی مدد کے ساتھ فرینک خاندان دو سال تک چھپا رہا۔ اس دوران این اپنی ڈائری میں اپنے خوف، امیدوں اور تجربات کے متعلق لکھتی رہی۔ 4 اگست 1944 کو یہ خاندان چار دوسرے افراد کے ساتھ پکڑا گیا اور انہيں گرفتار کرلیا گیا۔ فرینک خاندان کو ویسٹربروک کے عارضی کیمپ میں رکھا گيا اور پھر آش وٹز برکیناؤ جلاوطن کردیا گیا۔ جیسے جنگ ختم ہونے لگی، این اور اس کی بہن کو وہاں سے نکال کر برگن- بیلس بھیج دیا گيا۔ وہاں 1945 کے موسم بہار ميں دونوں بہنیں ٹائیفائیڈ کے باعث انتقال کر گئيں۔ صرف ان کے والد زندہ بچ گئے۔ این فریکن ہالوکاسٹ کے دوران انتقال کرنے والی لاکھوں یہودی بچوں میں سے ایک تھی۔ گرفتاری کے بعد این فرینک کی ڈائری بازیاب ہوگئی اور اسے جنگ کے بعد کئی زبانوں میں شائع کیا گیا۔
21 اکتوبر 1944
جرمن صنعت کار نے یہودی محنت کشوں کو بچایا
جرمن صنعت کار آسکر شنڈلر اپنے یہودی محنت کشوں کو پلاسزو کے حراستی کیمپ سے نکال کر بروینلٹز کے ایک حراستی کیمپ میں لے گیا۔ شنڈلر نے ایک ہزار سے زیادہ یہودیوں کو اپنی فیکٹری میں ملازمت پر رکھ کر اور انہيں جنگی صنعت کار کے لئے ضروری بتا کر ان کی جان بچائی۔ 1939-1940 کے موسم سرما میں شنڈلر نے کراکو، پولینڈ کے مضافات میں تام چینی کے برتنوں کا کارخانہ لگایا۔ اگلے دو سال کے دوران یہودی ملازمین کی تعداد بڑھ گئی۔ 1942 تک یہ یہودی کراکو کی یہودی بستی میں رہتے تھے اور انہیں ہمیشہ ہی جرمنوں کے کام کے نااہل افراد کے انتخابات سے خطرہ لگا رہتا تھا۔ شنڈلر نے اپنے کارخانے کے جعلی ریکارڈز بنا کر اپنے یہودی ملازمین کو تحفظ فراہم کیا – ملازمین کی عمریں تبدیل کردی گئيں اور جنگ کے لئے ضروری پیشے ظاہر کرنے کے لئے ان کے پیشے بھی تبدیل کردئيے گئے۔ مارچ 1943 میں کراکو کی یہودی بستی کو ختم کردیا گيا اور محنت کشوں کو پلاسزو کے کیمپ میں منتقل کردیا گیا۔ شنڈلر کے یہودی اکتوبر 1944 تک اس کی فیکٹری میں کام کرتے رہے جب تک کہ سوویت فوجیوں کی آمد نے پلاسزو کو خالی کرنے پر مجبور نہ کر دیا۔ زیادہ تر قیدیوں کو براہ راست قتل گاہوں میں بھیج دیا گیا۔ شنڈلر نے ایس ایس کے ساتھ اپنے اچھے تعلقات کا فائدہ اٹھا کر ایک ہزار سے زائد یہودی مزدوروں کو بروینلٹز کے کارخانے میں منتقل کرنے کی اجازت حاصل کرلی۔ مئی 1945 میں آزادی حاصل کرنے تک یہودی شنڈلر کے تحفظ میں رہے۔ شنڈلر مشرقی یورپ فرار ہوگیا اور جنگ کے بعد جرمنی لوٹ آیا۔