United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں:
دوسری جنگ عظیم کے بعد یہودی پناہ گزینوں کا بحران
3 اگست 1945
ہیریسن نے جرمنی کے یہودیوں کے بارے میں رپورٹ جاری کر دی

امریکہ کے خصوصی ایلچی ارل ہیریسن کی سربراہی میں ایک وفد جرمنی میں ملک بدر افراد کے کیمپ پہنچا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد، لاکھوں یہودی اپنے ممالک لوٹنے میں کامیاب نہ ہوئے، اور وہ جرمنی، آسٹریہ یا اٹلی میں رہ گئے۔ اتحادیوں نے پناہ گزينوں کے لئے بے دخل افراد (یعنی ڈی پی) کیلئے کیمپ قائم کئے۔ زيادہ تر یہودی بے دخل افراد نے فلسطین ہجرت کرنے کو ترجیح دی لیکن کئی امریکہ آنے کے خواہشمند تھے۔ وہ اُس وقت تک بے دخل افراد کے کیمپ میں رہے جب تک کہ وہ یورپ سے نکل نہ سکیں۔ ہیریسن نے اپنی رپورٹ میں یہودی بے دخل افراد کی صورتِ حال کو اجاگر کیا جس کی وجہ سے کیمپوں کی صورت حال بہتر ہونے لگی۔ 1946 کے اختتام تک یہودی بے دخل افراد کی تعداد تقریبا ڈھائی لاکھ تھی۔

11 جولائی 1947
برطانوی پابندیوں کے باوجود پناہ گزینوں کا بحری جہاز فلسطین کی طرف روانہ ہوگیا

برطانوی امیگریشن کی پابندیوں کے باوجود کئی یہودی بے دخل افراد نے فلسطین ہجرت کرنے کی کوشش کی۔ (1920 ميں برطانیہ کو لیگ آف نیشنز کی جانب سے فلسطین کے انتظام کی ذمہ داری سونپی گئی تھی اور برطانیہ نے 1948 تک علاقے کا انتظام کیا)۔ پابندیوں کے باوجودایکسوڈس نامی پناہ گزینوں کا جہاز جنوبی فرانس سے فلسطین کی جانب روانہ ہوا۔ اس میں جرمنی کے بے دخل افراد کے کیمپوں سے تقریبا ساڑھے چار ہزار یہودی مسافر سوار تھے۔ برطانوی اہلکاروں نے فلسطین کے ساحل میں داخل ہونے سے پہلے ہی بحری جہاز کا راستہ روک دیا۔ مسافروں کو زبردستی برطانوی بحری جہازوں پر منتقل کردیا گيا اور انہيں فرانس میں واپس اُسی مقام پر بھجوا دیا گیا جہاں سے وہ روانہ ہوئے تھے۔ تقریبا ایک مہینے تک برطانوی حکام نے پناہ گزینوں کو فرانسیسی ساحل پر لنگرانداز جہاز پرہی رکھا۔ فرانسیسی حکام نے برطانیہ کی طرف سے مسافروں کو اتارنے کا مطالبہ رد کردیا۔ بالآخر برطانوی اہلکار پناہ گزینوں کو جرمنی کے شہر ہیمبرگ لے گئے اور انہيں زبردستی بے دخل افراد کے کیمپوں میں واپس بھیج دیا۔ پناہ گزين جہاز ایکسوڈس کے ساتھ جو ہوا، اس کی وجہ سے بے دخل افراد کے کیمپوں میں ہالوکاسٹ سے بچنے والے افراد کے حالات دنیا کے سامنے واضح ہوئے، اور برطانیہ پر فلسطین میں یہودی نقل مکانی پر پابندیاں ہٹانے کے لئے دباؤ بڑھ گیا۔

29 نومبر 1947
اقوام متحدہ نے فلسطین کی تقسیم کے لئے رائے شماری کی

ایک خصوصی اجلاس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے لئے رائے شماری کی– ایک یہودی اور دوسرا عرب۔ چھ ماہ سے کم عرصے میں، 14 مئی 1948 کو نمایاں صیہونی رہنما ڈیوڈ بین گورین نے مملکت اسرائيل کے قیام کا اعلان کر دیا اور یہ بھی اعلان کیا کہ نئے ملک میں یہودی نقل مکانی پر کوئی پابندیاں نہيں لگائی جائيں گی۔ 1948 اور 1951 کے درمیان، سات لاکھ کے قریب یہودی ہجرت کرکے اسرائيل چلے گئے، ان میں یورپ میں موجود بے دخل یہودیوں کا دوتہائی سے زيادہ حصہ شامل تھا۔ ہالوکاسٹ سے بچنے والے،ایکسوڈسکے مسافر، وسطی یورپ سے بے دخل افراد، اور سائپرس میں برطانوی حراستی کیمپوں سے یہودی قیدیوں کا یہودی ملک میں خیرمقدم کیا گيا۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.