24 جون 1933
پرشیا میں یہوواز وھٹنس کے پیروکاروں پرپابندی
جرمنی کی سب سے بڑی ریاستی حکومت پرشیا کی نازی حکومت نے یہوواز وھٹنس کے پیروکاروں پر پابندی لگا دی۔ اُنہوں نے "جئے ہٹلر" کا نعرہ لگانے اور 1935 سے جرمن فوج میں ملازمت کرنے سے انکار کردیا۔ نازیوں نے 1936 میں یہوواز وھٹنس کے پیروکاروں کی وسیع پیمانے پر گرفتاریاں شروع کردیں۔ ان میں سے کئی افراد کو حراستی کیمپوں میں قید کردیا گیا اور وہ تقریبا ہر بڑے کیمپ میں موجود تھے۔ عمومی طور پر یہوواز وھٹنس کے پیروکاروں نے اپنے عقائد چھوڑنے سے انکار کردیا باوجود اس بات کے کہ اپنے عقائد چھوڑنے سے متعلق اعلان پر دستخط کر دینے سے اُنہیں آزادی مل سکتی تھی۔ 28 جون 1935
نازیوں نے ہم جنس پرستی کے خلاف قانون کو سخت کردیا
نازیوں نے جرمن ہم جنس پرستوں پر ظلم و ستم روا رکھنا شروع کر دیا کیونکہ اُنہیں جرمن قوم کے تحفظ کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جاتا تھا۔ 28 جون 1936 کو نازی حکومت نے جرمن سزائوں کے کوڈ کے پیراگراف 175 کو مزید سخت کردیا جس کے تحت ہم جنس پرستوں کے درمیان محض دوستی بھی جرم تھی۔ "پرانے عادی" ہم جنس پرستوں کو جلاوطن کر کے قید خانوں میں بھیج دیا گیا؛ کچھ کو بعد میں مزید تفتیش کے لئے کیمپ بھیج دیا گیا۔ پانچ ہزار اور پندرہ ہزار ہم جنس پرستوں کو، جن میں سے زیادہ تر جرمن یا آسٹرین تھے، حراستی کیمپوں میں قید کیا گيا جہاں انہیں تکون کی شکل کا گلابی کپڑے کا اسٹکر پہننے پر مجبور کیا جاتا تھا جو ان کی ہم جنس پرست کے طور پر نشان دہی کرتا تھا۔
18 اگست 1944
کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کو بوخین والڈ میں ہلاک کردیا گيا
ارنسٹ تھیلمان کو جو 1925 سے جرمن کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ اور جرمن صدارت کے امیدوار بھی رہ چکے تھے، بوخین والڈ کیمپ میں ہلاک کردیا گيا۔ انہیں ان کے ایس ایس محافظوں نے ایک قریبی فیکٹری پر ہوائی حملے کے دوران قتل کردیا۔ تھیلمان کو 1933 میں رائخ اسٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) کی عمارت میں لگنے والی آگ کے بعد گرفتار کیا گيا تھا اور انہوں نے کیمپوں میں بارہ سال سے زائد عرصہ گزارا تھا۔ نازیوں نے سب سے پہلے کمیونسٹوں، سوشل ڈيموکریٹس اور ٹریڈ یونینوں کے ممبران کو پر ظلم و ستم کا نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔