23 جولائی 1944
سوویت فوجوں نے مجدانیک کیمپ کو آزاد کرا لیا
سوویت فوجیں پولینڈ کے شہر لبلن کے قریب واقع مجدانیک کیمپ پر پہنچنے والی سب سے پہلی فوج تھی۔ تیزی سے پیش قدمی کرتی ہوئی سوویت فوجوں سے گھبرا کر جرمنوں نے اجتماعی قتل کے ثبوت مٹانے کی کوشش میں کیمپ کو تباہ کرنے کی کوششیں کی۔ کیمپ کے عملے نے مجدانیک کی لاشیں جلانے کی بھٹیوں کو آگ لگا دی لیکن عجلت میں کئے گئے اس اقدام کی وجہ سے گیس چیمبر موجود رہ گئے۔ سوویت فوجوں نے بعد میں اوش وٹز (جنوری 1945)، گروس روزن (فروری 1945)، سیخسین ھاؤسن (اپریل 1945)، ریوینزبرویک (اپریل 1945) اور شٹٹ ھوف (مئی 1945) میں آزاد کرائے۔ 11 اپریل 1945
امریکی فوجوں نے بوخین والڈ کیمپ کو آزاد کرا لیا
امریکی فوجوں نے اپریل 1945 میں نازيوں کے کیمپ خالی کرانے کے کچھ ہی دن بعد وائمار، جرمنی کے قریب واقع بوخین والڈ حراستی کیمپ کو آزاد کرا لیا۔ آزادی کے دن قیدیوں کی ایک خفیہ مزاحمتی تنظیم نے فرار ہونے والے کیمپ کے محافظوں کے ظلم کو روکنے کے لئے بوخین والڈ پر قبضہ کرلیا تھا۔ امریکی فوجوں نے بوخین والڈ میں بیس ہزار سے زائد قیدیوں کو رہا کرایا۔ امریکی فوجوں نے ڈورا- مٹل باؤ (اپریل 1945)، فلوسین برگ (اپریل 1945)، ڈاخاؤ (اپریل 1945) اور ماؤتھ ھاؤسن (مئی 1945) کے مرکزی کیمپوں کو بھی آزاد کرا لیا۔
15 اپریل 1945
برطانوی فوجوں نے برگن- بیلس کیمپ کو آزاد کرا لیا
برطانوی فوجیں جرمنی میں سیلی کے قریب واقع برگین- بیلسن حراستی کیمپ میں داخل ہوگئے۔ ساٹھ ہزار کے قریب قیدی زندہ ملے جن میں سے بیشتر کی ٹائفائیڈ کی وباء کی وجہ سے حالت تشویشناک تھی۔ چند ہفتوں میں دس ہزار سے زائد افراد غذائیت کی کمی یا بیماری کی وجہ سے ہلاک ہوگئے۔ برطانوی فوجوں نے شمالی جرمنی میں دوسرے کیمپوں کو بھی آزاد کرا لیا جن میں نوینگیم (اپریل 1945) بھی شامل تھا۔