United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں: آش وٹز کیمپ کمپلکس
20 مئی 1940
آش وٹز I کیمپ کھلتا ہے

آش وٹز I جو آش وٹز کیمپ کمپلیکس کا مرکزی کیمپ تھا، اوشوسیم کے قریب قائم کردہ پہلا کیمپ تھا۔ اس کی تعمیر مئی 1940 میں اوشوسیم کے مضافاتی علاقے زیسول میں ایک توپ خانے کی بیرکوں میں ہوئی جو اس سے قبل پولش فوج کے استعمال میں تھا۔ کیمپ کو مستقل جبری مشقت کے ذریعے بڑھایا گيا۔ اگرچہ آش وٹز I بنیادی طور پر ایک حراستی کیمپ تھا جس میں سزائيں دی جاتی تھیں، اس میں ایک گیس چیمبر اور لاشوں کی بھٹی بھی تھی۔ قید خانے (بلاک نمبر 11) کے تہہ خانے میں ایک عارضی گیس کا چیمبر بھی واقع تھا۔ بعد میں لاشوں کی بھٹی کے اندر ایک گیس چیمبر بھی بنایا گیا۔

8 اکتوبر 1941
آش وٹز II (برکیناؤ) کی تعمیر شروع ہوتی ہے

برزیزینکا میں آش وٹز II یا آش وٹز-برکیناؤ کی تعمیر شروع ہوئی۔ اوشوسیم کے قریب آش وٹز کیمپ کمپلیکس کے ایک حصے کے طور پر تعمیر کئے گئے تین کیمپوں میں آشوٹز برکیناؤ ایسا کیمپ تھا جہاں قیدیوں کی تعداد سے سے زیادہ تھی۔ اسے نو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا اور ہر حصے کو خار دار تاروں سے الگ کیا گیا تھا جن میں بجلی گذاری گئی تھی اور جن کی نگرانی ایس ایس محافظوں کے گشت اور کتوں کے ذریعے کی جاتی تھی۔ کیمپ میں عورتوں، مردوں، روما (خانہ بدوشوں) اور تھیریسئن شٹٹ سے جلاوطن کئے گئے خاندونوں کیلئے الگ حصے تھے۔ یورپ کے یہودیوں کو ختم کرنے کے جرمن منصوبے میں آش وٹز برکیناؤ کا اہم کردار تھا۔ مارچ اور جون 1943 کے درمیان چار بڑی لاشیں جلانے کی بھٹیوں کی عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ہر ایک کے تین حصے تھے: کپڑے اتارنے کی جگہ، ایک بڑا گیس چیمبر اور لاشیں جلانے کے بڑے تندور۔ گیس سے ہلاک کرنے کے اقدامات نومبر 1944 تک جاری رہے۔ p>اکتوبر 1942
آش وٹز III کیمپ کا آغاز

جرمنوں نے بونا کے مصنوعی ربڑ کے کام (جو جرمن کاروباری ادارے آئی جی فاربین کا حصہ تھا) کے لئے جبری مزدور فراہم کرنے کے لئے مونووائس میں آش وٹز III قائم کیا جسے بونا یا مونو وٹز بھی کہا جاتا تھا۔ آئی جی فاربین نے آش وٹز III میں 700 ملین سے زیادہ رائخ مارک یعنی تقریباً1۔4 ملین امریکی ڈالر 1942 کے مطابق) اس منصوبے پر خرچ کئے۔ آش وٹز I میں جبری مزدوری کے لئے منتخب کئے جانے والے قیدیوں کے بائيں بازوؤں پر شناختی نمبروں کو ٹیٹو کرکے رجسٹر کیا گیا۔ اس کے بعد انہیں آش وٹز میں یا آش وٹز III کے ذیلی کیمپوں میں سے کسی ایک میں جبری مزدوری پر متعین کردیا جاتا۔

27 جنوری 1945
سوویت فوج نے آش وٹز کیمپ کمپلیکس کو آزاد کرا لیا

سوویت فوج نے آش وٹز میں داخل ہو کر باقی قیدیوں کو آزاد کرا لیا۔ صرف کچہ ہزار قیدی کیمپ میں باقی رہ گئے۔ تقریباً 60 ہزار قیدیوں کو، جن کی اکثریت یہودیوں پر مشتمل تھی، رہائی سے کچھ عرصہ قبل کیمپ سے موت کے مارچ میں چلنے پر مجبور کیا گيا۔ آش وٹز کو زبردستی خالی کرائے جانے کے دوران، قیدیوں کے ساتھ بے رحمانہ سلوک کیا گيا اور کئی کو ہلاک کردیا گیا۔ ایس ایس کے محافظ پیچھے رہنے والوں کو گولی ماردیتے تھے۔ آشوٹز کیمپ کے وجود کی مختصر تاریخ کے دوران آش وٹز میں تقریبا 10 لاکھ یہودیوں کو ماردیا گیا۔ اس کے علاوہ 70 ہزار سے 74 ہزار پولز، 21 ہزار روما (خانہ بدوشوں) اور تقریباً 15 ہزار سوویت جنگی قیدی بھی اس کا شکار ہوئے۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.