15 جولائی 1942
نیدرلینڈ سے منظم جلاوطنی شروع ہوگئی
نیدرلینڈ کے یہودیوں کو ویسٹربورک کے ٹرانزٹ کیمپ میں باقاعدہ جمع کیا گیا۔ ویسٹربورک بھیجے جانے والے یہودیوں میں سے بیشتر کو صرف کچھ عرصہ ہی وہاں رکھا جاتا تھا جس کے بعد انہیں جلا وطن کرکے مشرق میں قتل کے مراکز میں بھیج دیا جاتا تھا۔ 15 جولائی 1942 سے جرمنوں نے ویسٹربورک سے تقریباً ایک لاکھ یہودیوں کو جلاوطن کیا: تقریباً 60 ھزار کو آش وٹز، 34 ھزار سے زائد کو سوبیبور، تقریباً 5 ھزار کوتھیریسئن شٹٹ کی یہودی بستی اور تقریباً 4 ھزار کو برگن- بیلسن کے حراستی کیمپ میں بھیجا گیا۔ جلاوطن ہونے والوں کی بھاری اکثریت کو کیمپوں میں پہنچتے ہی مار دیا جاتا تھا۔ 22 جولائی 1942
وارسا کے یہودیوں کو ٹریبلنکا کے قتل کے مرکز میں جلاوطن کردیا گيا
22 جولائی اور ستبمر 1942 کے درمیان تین لاکھ سے زائد افراد کو وارسا کی یہودی بستی سے جلاوطن کیا گيا: ان میں سے ڈھائی لاکھ سے زائد کو ٹریبلنکا کے قتل کے مرکز میں جلاوطن کیا گيا۔ جلاوطن کئے جانے والوں کو زبردستی امشلاگ پلاٹز (جلاوطنی کے مقام) بھیجا گیا جو وارسا- مالکینیا کی ریلوے لائن سے متصل ہے۔ انہیں سامان کی گاڑیوں میں بھرا گیا اور زيادہ تر کو مالکینیا کے ذریعے ٹریبلینکا جلاوطن کردیا گيا۔ جلاوطن ہونے والوں کی بھاری اکثریت کو ٹریبلنکا پہنچتے ہی ماردیا گيا۔ ستمبر میں 1942 کے اجتماعی جلاوطنی کے اختتام پر یہودی بستی میں صرف پچپن ہزار یہودی باقی رہ گئے۔
15 مئی 1944
یہودیوں کی ہنگری سے باقاعدہ جلاوطنی شروع
جرمن افواج نے 19 مارچ 1944 کو ہنگری پر قبضہ کرلیا۔ اپریل 1944 میں بوڈاپیسٹ میں رہنے والے یہودیوں کے علاوہ سب یہودیوں کو گھیٹو یعنی یہودی بستیوں میں جانے کا حکم دے دیا گيا۔ اگلے مہینے یعنی مئی 1944 میں ہنگری کی یہودی بستیوں سے آش وٹز برکناؤ تک جلاوطنی شروع ہوگئی۔ تین ماہ سے کم عرصے میں تقریباً 4 لاکھ 40 ہزار یہودیوں کو 145 سے زیادہ ٹرینوں میں ہنگری سے جلاوطن کردیا گيا۔ ان کی بھاری اکثریت کو آش وٹز پہنچتے ہی قتل کردیا جاتا تھا۔