United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں:
گشتی قاتل اسکواڈ نے مشرقی یورپ کے یہودیوں کو قتل کردیا
22 جون 1941
یہودیوں کے خلاف قتل کے اسکواڈ کا استعمال کیا گيا

سوویت یونین پر حملے کے دوران یہودیوں کو مارنے کے لئے جرمن گشتی قاتل یونٹ متعین کئے گئے، جنہيں اسپیشل ڈیوٹی یونٹ یعنی آئن سیٹزگروپن کہا جاتا تھا۔ جیسے جیسے جرمن فوج سوویت یونین کے علاقے میں آگے بڑھتی گئيں، یہ ٹیمیں ان کے پیچھے آئيں اور قتل عام انجام دیتی رہيں۔ سب سے پہلے موبائل قاتل اسکواڈ خاص طور پر یہودی مردوں کو گولی مار دیتے تھے۔ جلد ہی، جہاں جہاں یہ موبائل قتل کی ٹیمیں گئيں، انہوں نے بلالحاظ عمر یا جنس کے تمام یہودی مرد، عورتوں اور بچوں کو گولی ماردی۔ 1943 میں بہار کے موسم تک موبائل قاتل یونٹوں نے دس لاکھ سے زیادہ یہودی، اور ہزاروں حامیوں، روما (خانہ بدوشوں) اور سوویت سیاسی افسران کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

29-30ستمبر 1941
بابی یار میں تقریباً 34 ہزار یہودیوں کو قتل کیا گيا

جرمنوں نے کیو کے یہودی رہائشیوں کو شہر کے باہر دوبارہ آباد ہونے کے لئے میلنک اسٹریٹ پر جمع ہونے کا حکم دیا۔ درحقیقت حاضر ہونے والوں کو میلنک اسٹریٹ سے یہودی قبرستان اور بابی یار نامی ایک کھائی کی طرف لے جایا جارہا تھا۔ یہودیوں کو اپنا قیمتی سامان جرمنوں کے حوالے کرنے، اپنے کپڑے اتارنے اور چھوٹے گروپوں میں کھائی میں اترنے کا حکم دیا گيا۔ جرمن قاتل اسکواڈ اور یوکرینی ذیلی یونٹس نے انہيں قتل کردیا۔ یہ قتل عام دو دن تک جاری رہا۔ اس عمل میں چونتیس ہزار کے قریب یہودی مرد، عورتيں اور بچے مارے گئے۔ آنے والے مہینوں میں بابی یار پر مزید ہزاروں یہودی مارے گئے۔ کھائی میں کئی غیریہودی بھی مارے گئے، جن میں روما (خانہ بدوش) اور سوویت جنگی قیدی بھی شامل تھے۔

یکم دسمبر 1941
قتل کے اسکواڈ کے کمانڈر نے 137،346 افراد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع دی

"جائيگر رپورٹ" میں ایس ایس کے کرنل کارل جائيگر نے 2 جولائی اور یکم دسمبر 1941 کے درمیان لیتھوینیا میں اپنے یونٹ کے ہاتھوں قتل کے اقدامات کے متعلق اطلاع دی۔ ان کی اطلاع کے مطابق ان کے اسکواڈ نے 137،346 یہودی مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ کوونو، یکمرج اور ولنا میں رہنے والے یہودیوں کو قتل عام کے اس سلسلے کے دوران ہلاک کردیا گيا، جو 1941 کے پورے موسم گرما تک جاری رہا۔ لیتھوینیا کے چھوٹے قصبوں اور گاؤں میں رہنے والے تقریباً تمام یہودی مارے گئے۔ جائيگر کی اطلاع کے مطابق تقریباً پینتیس ہزار ہی یہودی باقی رہ گئے جو کوونو، ولنا اور سائیولائی یہودی بستیوں میں جبری مزدوروں کے طور پر موجود تھے۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.