22 جون 1941
سوویت یونین پر جرمنی کے حملے کے دوران قاتل اسکواڈ ہمراہ آئے
سوویت یونین پر حملے کے دوران یہودیوں کو مارنے کے لئے جرمن گشتی قاتل ٹیمیں متعین کی گئيں جنہيں اسپیشل ڈیوٹی یونٹ (آئن سیٹزگروپن) کہا جاتا تھا۔ جیسے جیسے جرمن فوج سوویت یونین کے اندر دور تک بڑھتی گئي، یہ ٹیمیں اس کے پیچھے آتيں اور قتل عام کے اقدامات انجام دیتی تھیں۔ سب سے پہلے گشتی قاتل اسکواڈ خاص طور پر یہودی مردوں کو گولی مار دیتے تھے۔ لیکن جلد ہی جہاں جہاں یہ گشتی قاتل ٹیمیں گئيں، انہوں نے بلا لحاظ عمر یا جنس کے تمام یہودی مرد، عورتوں اور بچوں کو گولی مار دی۔ 1943 کے موسم بہار تک گشتی قاتل ٹیموں نے دس لاکھ سے زیادہ یہودی اور ھزاروں حامیوں، روما (خانہ بدوشوں) اور سوویت یونین کے سیاسی افسران کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ 8 دسمبر 1941
پہلی قتل گاہ میں کام کا آغاز ہوتا ہے
چیلمنو کی قتل گاہ کام شروع کر دیتی ہے۔ بعد میں نازيوں نے ایسے ہی پانچ اور کیمپ قائم کئے: بیلزک، سوبیبور، ٹریبلنکا، آش وٹز- برکیناؤ (جو آش وٹز کمپلیکس کا حصہ تھا) اورمجدانیک۔ چیلمنو میں لوگوں کو گیس کی وینوں میں مارا جاتا تھا (یہ ہوا بند ٹرک تھے جن کے انجنوں کے ایکزھاسٹ کو رخ موڑ کر اندرونی حصے کی طرف کر دیا گيا تھا)۔ بیلزک، سوبیبار اور ٹریبلنکا کیمپوں میں گیس کے چیمبروں سے منسلک ساکن انجنوں کے ذریعے کاربن مونوآکسائڈ گیس استعمال کی جاتی تھی۔ سب سے بڑے قتل کے مرکز، آش وٹز میں چار بڑے گیس کے چیمبر تھے، جہاں زائکلون بی (کرسٹل کی شکل میں ہائیڈروجن سائینائڈ) استعمال کیا جاتا تھا۔ مجدانیک میں کاربن مونوآکسائڈ اور زائکلون بی دونوں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ "حتمی حل" میں قتل کے مراکز کے گیس چیمبروں میں کئی ،لین یہودی مارے گئے۔
20 جنوری 1942
وانسی کانفرنس اور "حتمی حل"
وانسی کانفرانس میں ایس ایس (نازی حکومت کی ایلیٹ گارڈ) اور جرمن حکومتی ایجنسیوں کے مابین ملاقات برلن میں شروع ہوئی۔ انہوں نے "حتمی حل" کے نفاذ کے بارے میں بات چیت کی اوراس پر عملدرآمد کو مربوط بنایا جو پہلے سے جاری تھا۔ وانسی میں ایس ایس نے اندازہ لگایا گہ "حتمی حل" میں یورپ کے 11 ملین یہودی شامل ہوں گے جن میں آئرلینڈ، سویڈن، ترکی اور برظانیہ جیسے غیرمقبوضہ ممالک کے یہودی بھی شامل تھے۔ 1941 کے موسم خزاں اور 1944 کے موسم خزاں کے درمیان جرمن ریلوے کئی ملین یہودیوں کو مقبوضہ پولینڈ میں قتل کے مراکز میں موت کی جانب لے