6 سے 15 جولائی 1938
ایویان میں پناہ گزینوں کی کانفرنس
جرمنی کے یہودی پناہ گزينوں کے مسئلے پر بات کرنے کے لئے بتیس ممالک اور ریلیف تنظیموں کے نمائیندوں کا ایک اجلاس فرانس کے ایک اسپا ٹاؤن، ایویان۔ لیس۔ بینز میں ہوا۔ امریکہ نے تمام ممالک کو اس مسئلے کا طویل المیعاد حل نکالنے کی ترغیب دی۔ تاہم امریکہ اور دوسرے ممالک اپنی امیگریشن کی پاپندیاں کم کرنے کے لئے رضامند نہيں تھے۔ زیادہ تر ممالک یہ سمجھتے تھے کہ پناہ گزینوں کی تعداد پڑھنے کی وجہ سے مزید معاشی مشکلات پیدا ہوں گی۔ ایک ہفتے کے بعد کانفرنس ختم ہوگئی۔ چھوٹے سے ملک جمہوریہ ڈومینک کے علاوہ کوئی بھی ملک مزید پناہ گزینوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ کانفرنس کے نتیجے میں انٹرگورنمنٹل پناہ گزينوں کی کمیٹی قائم ہوگئی جو پناہ گزينوں کے مسئلے کا حل ڈھونڈنے کے لئے کام کرتی رہی۔ 9 فروری 1939
امریکی کانگریس میں محدود پناہ گزینوں کا بل پیش کیا گیا
نیویارک سے ڈیموکریٹ سینیٹر رابرٹ ایف واگنر نے امریکی سینیٹ میں پناہ گزینوں کی امداد کا بل، رابرٹ واگنرز پناہ گزينوں کی معاونت کا بل، پیش کیا۔ اس بل میں، معمول کی امیگریشن کے علاوہ، اگلے دو سال کے دوران چودہ سال سے کم عمر کے بیس ہزار جرمنی پناہ گزینوں کو امریکہ میں داخلے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گيا تھا۔ اس بل کو پانچ روز بعد میسا چیوسٹ سے رپبلکن نمائیندہ ایڈیتھ نورس روجرز نے ایوان نمائیندگان میں پیش کیا۔ ملک بھر میں خیراتی تنظیموں نے بل کی حمایت حاصل کرنے کے لئے جرمن پناہ گزین بچوں کی حالت کو مشتہر کرنا شروع کیا۔ تاہم محدود ہجرت کی خواہاں تنظیموں نے اس بل کی شدید مخالف کی اور یہ کہا کہ پناہ گزين بچوں کی وجہ سے امریکی بچے امداد سے محروم ہوجائيں گے۔ کئی ماہ کے مباحثے کے بعد، بل کمیٹی میں پاس نہ ہوسکا۔ اس بل کے ذریعے ہزاروں جرمن یہودی بچوں کو پناہ ملنے والی تھی۔
مئی 1939
برطانوی حکومت نے فلسطین میں ہجرت کو محدود کردیا
1936 میں فلسطین میں برطانوی مینڈیٹ کے خلاف عربوں اور فلسطینیوں کی بغاوت اور عرب میں جاری ہنگاموں، خاص طور پر یہودیوں اور فلسطینیوں کی حیثیت کی وجہ سے ہونے والے ہنگاموں کی وجہ سے برطانیہ کی مشرق وسطی سے متعلق خارجہ پالیسی میں ایک فیصلہ کن تبدیل آئی۔ 1939 کے قرطاس ابیض میں، برطانوی حکومت نے فلسطین کی آئیندہ حیثیت سے متعلق اپنی پالیسیوں کا اعلان کیا۔ برطانیہ نے ایک آزاد یہودی ریاست قائم کرنے کے خیال کو مسترد کردیا اور فلسطین میں آئیندہ یہودی امیگریشن کو شدید طور پر محدود کردیا۔ برطانیہ کی پالیسی کے جواب میں، فلسطین میں یہودی پناہ گزینوں کی غیرقانونی ہجرت بڑھ گئی۔ برطانوی حکام نے ان غیرقانونی مہاجرین کو پکڑ کر کیمپوں میں بند کردیا۔ جنگ کے دوران، امیگریشن کی پالیسی کی شدت کو کم کرنے کی کوئی بھی کوشش نہيں کی گئی۔ یہودی امیگریشن پر لگائی گئی پابندیاں 1948 میں اسرائیل کے قیام تک قائم رہيں۔