United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
"ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات"
9 نومبر 1938 کی رات کو رائخ بھر میں یہودیوں کے خلاف تشدد شروع ہوگیا۔ بظاہر یہ کسی منصوبے کے تحت نہیں ہوا تھا۔ اسے ایک یہودی کم عمر نوجوان کے ہاتھوں پیرس میں ایک جرمن افسر کے قتل پر جرمنوں کے غصے کا نتیجہ ظاہر کیا گیا تھا۔ لیکن حقیقت تو یہ تھی کہ پروپیگينڈے کے جرمن وزیرجوزیف گویبلز اور دوسرے نازیوں نے پوگروموں کو بڑی احتیاط کے ساتھ منظم کیا تھا۔ دو دنوں میں 250 سے زائد یہودی عبادت گاہيں جلائی گئيں، 7000 سے زائد یہودی کاروباروں میں لوٹ مار کی گئی اور اُنہیں تباہ کر دیا گیا، درجنوں یہودیوں کو ماردیا گیا اور یہودی قبرستانوں، ہسپتالوں، اسکولوں اور گھروں کو لوٹا گیا جبکہ پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیاں دیکھتی ہی رہیں۔ سڑکوں پر بکھرے ہوئے دکانوں کی کھڑکیوں کے شیشوں اور کرچیوں کی وجہ سے ان پوگروموں کو "کرسٹل ناخٹ" یعنی "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کہا جانے لگا۔

پوگروموں کی بعد کی صبح جرمنی کے تیس ہزار یہودی مردوں کو یہودی ہونے کے "جرم" میں گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بھیجا گیا جہاں ان میں سے سینکڑوں افراد ختم ہوگئے۔ کچھ یہودی عورتوں کو بھی گرفتار کرکے مقامی قیدخانوں میں بھیج دیا گيا۔ یہودیوں کے کاروباروں کو اس وقت تک دوبارہ کھولنے کی اجازت نہيں دی گئی جب تک کہ ان کا انتظام غیریہودیوں کے ہاتھوں میں نہ دیا گیا ہو۔ یہودیوں پر کرفیو لگا دئے گئے جن کی وجہ سے ان کے گھروں سے نکلنے کے اوقات محدود ہوگئے۔

"ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات" کے بعد جرمن اور آسٹرین یہودی بچوں اور نوجوانوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوگئی۔ ان پر پہلے ہی عجائب گھروں، عوامی پارکوں اور تیراکی کے پولوں میں داخلے پر پابندیاں لگا دی گئی تھیں، اب انہيں سرکاری اسکولوں سے بھی خارج کردیا گيا۔ اپنے والدین کی طرح یہودی نوجوانوں کو بھی جرمنی میں مکمل طور پر علحدگی کا سامنا کرنا پڑا۔ مایوسی میں کئی یہودیوں نے خود کشی کرلی۔ زیادہ تر خاندانوں نے بھاگ جانے کی بھی بھرپور کوششیں کیں۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.