United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں: نازی نسلی حکمت عملی 1935
15 ستمبر 1935
نیورمبرگ کے قوانین نافذ کئے گئے

اپنی پارٹی کی سالانہ ریلی کے دوران نازیوں نے نئے قوانیین کا اعلان کیا جن کے تحت یہودیوں کی رائخ کی شہریت کو منسوخ کردیا گيا اور یہودیوں کے "جرمن یا متعلقہ خون" رکھنے والے افراد کے ساتھ شادی کرنے یا جنسی تعلقات قائم کرنے پر پابندی عائد ہوگئی۔ اس کو "نسلی بدنامی" کا نام دیا گيا، اور اس کو ایک سنگین جرم قرار دے دیا گیا۔ نیورمبرگ قوانین کے مطابق ایک ایسے شخص کو "یہودی" قرار دیا گیا جس کے دادی، دادا، نانی یا نانا میں سے تین یا پھر چاروں افراد یہودی ہوں۔ اس کے نتیجے میں، نازیوں نے ایسے ہزاروں افراد کو یہودی قرار دے دیا جنہوں نے کوئی دوسرا مذہب قبول کرلیا ہو۔ ان میں ایسے رومن کیتھلک پادری، راہبائيں اور پروٹسٹنٹ پادری بھی شامل تھے جن کے دادا دادی یا پھر نانا نانی یہودی تھے۔

18 اکتوبر 1935
شادی کے نئے ضابطے نافذ کردئے گئے

"جرمن قوم کی جینیاتی صحت کے تحفظ کے قانون" کے تحت شادی کے خواہاں تمام افراد کے لئے شادی کرنے کے لئے عوامی صحت کے حکام سے صحت یابی کا توثیق نامہ حاصل کرنا ضروری ہوگیا۔ "جینیاتی امراض" اور چھوت کی بیماریوں سے دوچار افراد اور نیورمبرگ کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو یہ تو‎ثیق نامے نہيں ديئے جاتے تھے۔

14 نومبر 1935
نیورمبرگ قانون کے اطلاق کا دائرہ وسیع کر کے دیگر گروپوں کو بھی شامل کر لیا گیا

نیورمبرگ قوانین کے پہلے اضافی حکم نامے کے تحت ان افراد کے درمیان بھی شادی یا جنسی تعلقات پر پابندی عائد کردی گئی جن کے بارے میں امکان ہو کہ وہ "نسلی طور پر مشکوک" اولاد پیدا کریں گے۔ ایک ہفتے کے بعد وزیر داخلہ نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے مراد "جرمن یا متعلقہ خون رکھنے والے افراد" اور روما (خانہ بدوش)، افریقی یا ان کی اولادوں کے درمیان تعلقات ہے۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.