مارچ 1933
جرمنی بھر میں یہودیوں کے خلاف ایس اے کی دہشت ناک کارروائیاں
یہودیوں کو معاشرے سے علیحدہ کرنے کی کوشش میں ایس اے (اسٹارم ٹروپرز) نے جرمن شہروں میں یہودیوں کے ڈیپارٹمنٹ اسٹورز پر حملہ کردیا۔ مقامی پولیس۔، جو ابھی نازی کنٹرول کے تحت نہیں آئی تھی، حملے روکنے کی ناکام کوشش کرتی رہی۔ ایس اے کے ارکان نے اپنے حملے جاری رکھے اور عدالتوں میں داخل ہو کر یہودی وکیلوں اور ججوں کو سڑکوں پر گھسیٹ کر لے آئے اور اُنہیں کھلے عام رسوا کیا۔ بین الاقوامی یہودی تنظیموں اور اخبارات نے ان حملوں کو مشتہر کیا اور جرمن اشياء کے بائيکاٹ کی ترغیب دی۔ اس کے جواب میں نازیوں نے جرمنی بھر میں یہودی کاروباروں کا بائيکاٹ کروایا اور یہودیوں کو بین الاقوامی پریس میں سامنے آنے والی جرمن مخالفت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ یکم اپریل 1933
ملک بھر میں یہودی کاروباروں کا بائیکاٹ
صبح 10 بجے ایس اے اور ایس ایس کے ممبران نے جرمنی بھر میں یہودی کاروباروں کے سامنے کھڑے ہو کر عوام کو ان کے مالکان کے یہودی ہونے کے متعلق مطلع کیا۔ دکانوں کی کھڑکیوں پر "جیوڈ" لکھا گیا، جس کا مطلب جرمن زبان میں "یہودی" تھا، اور دروازوں پر سیاہ اور زرد رنگوں میں اسٹار آف ڈیوڈ بنایا گيا۔ ان نعروں کے ساتھ یہودیوں کی مخالفت کرنے والے نشانات لگائے گئے۔ کچھ قصبوں میں ایس اے سڑکوں پر یہودیوں کی مخالفت میں نعرے لگاتے ہوئے اور پارٹی کے گانے گاتے ہوئے چل نکلے۔ دوسرے قصبوں میں بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ تشدد کا بھی استعمال کیا گیا؛ کئیل میں ایک یہودی وکیل کو قتل کردیا گیا۔ رات کے بارہ بجے سرکاری بائيکاٹ ختم ہوگیا۔
7 اپریل 1933
قانون کے تحت یہودیوں کو سول سروس سے برطرف کردیا گیا
نازی حکومت نے پیشہ ورانہ سول سروس کی بحالی کے قانون پر عملدرآمد کیا۔ اس قانون کا مقصد نازی ریاست کے مخالفین کو خارج کرنا تھا – یعنی یہودی اور سیاسی مخالفین۔ اس کے نتیجے میں سول سروس کے ملازمین کو اپنی "آرین" نسلیت کے ثبوت کے طور پر اپنے والدین اور نانی نانا اور دادی دادا کے مذہب کی دستاویز پیش کرنے کی ضرورت پڑتی تھی۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انہيں سروس سے برطرف کردیا جاتا تھا۔ ہٹلر نے بہت مشکل سے صدر پال وون ہنڈن برگ کا ان سول ملازمین کو برطرفی سے مستثنی کرنے کا مطالبہ مانا، جنہوں نے پہلی جنگ عظیم میں حصہ لیا تھا، یا جن کے قریبی رشتہ دار اس جنگ میں مارے گئے تھے۔ آنے والے ہفتوں میں ایسے دوسرے قوانین سے یہودی وکیل اور ڈاکٹر بھی متاثر ہوئے تھے۔