United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
"یہودی، اندورنی دشمن"
1890 کی دہائی
ایک من گھڑت یہودی سازش

فرانس میں روس کی خفیہ پولیس کے ایک اہلکار نےزیون کے بڑوں کے پروٹوکولز تیار کئے۔ پروٹوکولز میں یہ دعوی کیا گيا ہے کہ یہودی پوری دنیا پر قبضہ کرنے کی سازش کررہے ہيں۔ ان جعلی دستاویزات کو عالمی یہودی لیڈروں کی ایک مفروضہ میٹنگ کے منٹس کے طور پر پیش کیا گیا ہے جن میں انہوں نے پوری دنیا پر قابض ہونے کے منصوبوں کو حتمی شکل دی اور ان میں یہ تاثر دیا گيا ہے کہ یہودی خفیہ تنظیموں اور ایجنسیوں کے ذریعے سیاسی جماعتوں، معیشت، اخبارات اور عوامی رائے کو کنٹرول کرنا اور اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ پروٹوکولز کو دنیا کے مختلف ممالک میں شا‏ئع کیا گیا ہے جن میں ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی شامل ہے اور اسے سام دشمنوں نے یہودی سازش کے دعووں کو تقویت دینے کے لئے استعمال کیا ہے. 1920 اور 1930 کی دہائیوں میں پروٹوکولز کو نازی پارٹی کے سام دشمن نظریے اور پالیسیوں کے لئے حمایت حاصل کرنے کی غرض سے استعمال کیا گيا ہے۔

1894
ڈریفس کے مسئلے کی وجہ سے فرانس میں تقسیم

فرانسیسی فوج کے ایک یہودی افسر کو گرفتار کرکے ان پر جرمنی کو فرانس کے قومی دفاع سے تعلق رکھنے والی دستاویزات دینے کا غلط الزام لگایا گیا۔ فوجی عدالت کے سامنے ایک مختصر مقدمے میں ڈریفس کو غدار ثابت کردیا گیا اور اسے فرانسیسی گویانا کے ساحل پر واقع ڈيولز آئی لینڈ پر عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ اس کیس کی وجہ سے فرانسیسی قوم دو مخالف گروہوں میں تقسیم ہوگئی: ایک گروہ ان افراد پر مشتمل تھا جو ڈریفس کو قصوروار مانتے تھے (یعنی روایت پسند، قوم پرست اور سام دشمن) اور دوسرا ان افراد پر مشتمل تھا جن کا اصرار تھا کہ ڈریفس کا مقدمہ انصاف کے ساتھ ہونا چاہئیے (یعنی آزاد خیال اور دانشور) 1899 میں ڈریفس پر دوبارہ مقدمہ چلایا گیا لیکن اسے فوجی عدالت نے دوبارہ قصور وار ٹھہرا دیا۔ تاہم فرانسیسی جمہوریہ کے صدر نے مداخلت کرتے ہوئے اُنہیں معافی دے دی۔ پہلی عالمی جنگ سے کچھ عرصہ قبل ڈریفس کو ایک شہری عدالت نے باعزت بری کردیا۔ ڈریفس کے معاملے سے متعلق تنازعے سے فرانس کے افسروں کے دستوں اور دوسرے روایت پسند فرانسیسی گروپوں میں پوشیدہ سام دشمنی جھلکتی ہے۔

اپریل 1897
کارل لوگر، ویانا کا ایک سام دشمن میئر

کارل لوگر کو ویانا کا میئر منتخب کر لیا گيا۔ اس نے 1910 میں وفات پانے تک تیرہ برس تک یہ عہدہ سنبھالا۔ لوگر عیسائی اشتراکی پارٹی کا شریک بانی تھا اور اُس نے معاشی سام دشمنی کا استعمال کرکے آسٹریا کے صنعتی انقلاب کے دوران سرمایہ داری کے شکار چھوٹے کاروباروں کے مالکان اور مزدوروں کی حمایت حاصل کی۔ اس نے دعوی کیا کہ یہودیوں کا سرمایہ داری پر تنہا تسلط ہے لہذا وہ معاشی میدان میں غیرمنصفانہ طریقے سے مقابلہ کرتے ہیں۔ بیسویں صدی کے اوائل میں دوسری دائیں بازو کی پارٹیوں نے اپنی مقبولیت بڑھانے کے لئے اس قسم کی سام دشمنی کا استعمال کیا۔ ایڈولف ہٹلر جو لوگر کے اقتدار کے دوران ویانا میں قیام پذیر تھا، وہ لوگر کی سام دشمنی اور اس کی عوامی حمایت حاصل کرنے کی قابلیت سے کافی متاثر ہوا۔ لوگر کے خیالات 1920 کی دہائی کے جرمنی میں نازی پارٹی کے منشور میں نظر آتے ہيں۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.