United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں:
نازیوں کی یہود مخالف پالیسی، 1933-1939
یکم اپریل 1933
ملک بھر میں یہودیوں کے زیر ملکیت کاروباروں کا بائیکاٹ

صبح 10 بجے ایس اے اور ایس ایس کے ارکان نے جرمنی بھر میں یہودی کاروباروں کے سامنے کھڑے ہو کر عوام کو ان کے مالکان کے یہودی ہونے کے متعلق مطلع کیا۔ دکانوں کی کھڑکیوں پر "جیوڈ" لکھا گیا، جس کا مطلب جرمن زبان میں "یہودی" تھا اور دروازوں پر سیاہ اور زرد رنگوں میں اسٹار آف ڈیوڈ بنایا گيا۔ ان نعروں کے ساتھ یہودیوں کی مخالفت کرنے والے نوٹس لگائے گئے۔ کچھ قصبوں میں ایس اے اہلکار سڑکوں پر یہودیوں کی مخالفت میں نعرے لگاتے ہوئے اور پارٹی کے گانے گاتے ہوئے چل نکلے۔ دوسرے قصبوں میں بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ تشدد کا بھی استعمال کیا گیا؛ کئیل میں ایک یہودی وکیل کو قتل کردیا گیا۔ رات کے بارہ بجے بائيکاٹ ختم ہوگیا۔ مقامی سطح پر منظم کردہ بائیکاٹ 1930 کی دہائی کے بیشتر حصے میں جاری رہے۔

15 ستمبر 1935
نیورمبرگ کے قوانین نافذ کئے گئے

اپنی پارٹی کی سالانہ ریلی میں نازيوں نے نئے قوانین کا اعلان کیا جن کے مطابق یہودی دوسرے درجے کے شہریوں میں تبدیل ہوگئے اور ان کے بیشتر سیاسی حقوق منسوخ کردئے گئے۔ اس کے علاوہ یہودیوں کی "جرمن یا متعلقہ خون" رکھنے والے افراد کے ساتھ شادی کرنے یا جنسی تعلقات رکھنے پر ممانعت لگا دی گئی۔ اس کو "نسلی بدنامی" کا نام دیا گيا اور اس کو ایک سنگین جرم قرار دے دیا گیا۔ نیورمبرگ کے قوانین میں ایسے فرد کو "یہودی" بتایا گیا تھا جس کے دادا، دادی، نانی یا نانی ميں سے تین یا چار یہودی تھے، یا جو خود یہودی مذہب پر کاربند ہو۔ اس کے نتیجے میں ایسے ہزاروں افراد یہودیوں کے زمرے میں آتے تھے جنہوں نے کوئی دوسرا مذہب قبول کرلیا ہو۔ ان میں ایسے رومن کیتھلک پادری اور راہبائيں، اور پروٹسٹنٹ پادری بھی شامل تھے جن کے دادی دادا یہودی تھے۔

9 نومبر 1938
"کرسٹل ناخٹ": ملک بھر میں پوگروم

پیرس میں ایک نوجوان یہودی کے ہاتھوں جرمن سفارت کار ایرنسٹ وون راتھ کے قتل کے جواب میں جرمنی کے پروپیگنڈا کے وزیر نے میونخ میں نازی پارٹی کے وفاداروں کیلئے ایک جوشیلی تقریر کی؛ پارٹی کے ممبران 1923 کے بئیر ہال پٹش (ایڈولف ہٹلر کے اقتدار چھیننے کی پہلی کوشش) کی سالگرہ منانے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اس تقریر میں ایس اے، ایس ایس اور ہٹلر یوتھ جیسی دوسری نازی تنظیموں کی جانب سے یہودی گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں پر منظم حملے کرنے کا اشارہ کیا گيا تھا۔ باوجود اس کے کہ نازی افسران نے پوگروم کو عوام کے غصے کے غیرارادی نتیجے کے طور پر ظاہر کیا تھا، پوگروم میں عوام کی شرکت محدود تھی۔ یہودیوں پر تشدد 10 نومبر کی صبح تک جاری رہا اور اسے "کرسٹل ناخٹ" کا نام دیا گيا: "ٹوٹے ہوئے شیشوں کی رات"۔ کم از کم 91 یہودی مارے گئے تھے اور مزید تیس ہزار کو گرفتار کرکے حراستی کیمپوں میں بند کیا گيا۔ پوگروم کے بعد "آرین بنانے" کے عمل یعنی یہودی کاروباروں کو "آرین" لوگوں کے حوالے کرنے کے عمل نے زور پکڑا۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.