United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں:
جرمن مزاحمت کا جواب قتل عام کے ساتھ دیتے ہیں
16 مئی 1940
نازیوں نے پولش رہنماؤں کے قتل کا حکم دے دیا

مقبوضہ پولینڈ کے نازی منتظم ہانز فرانک نے پولش رہنماؤں (سیاستدان، سرکاری افسران، پیشہ ور ماہرین، دانشور- حتی کہ پادریوں بھی) کی گرفتاری اور قتل کا حکم دے دیا۔ نازیوں کا مقصد پولینڈ کے باشندوں میں خوف و ہراس پھیلا کر انہيں نازیوں کی پالیسیوں کی مزاحمت سے روکنا تھا۔ ہزاروں پولش افراد کو گرفتار کرکے قتل کردیا گيا۔ دہشت کے باوجود پولینڈ کی مزاحمتی تحریک جاری رہی۔

10 جون 1942
جرمنوں نے ایک چھوٹے چیک قصبے کو تباہ کردیا

چیک حامیوں کے ہاتھوں رائنہارڈ ہائيڈریخ (بوہیمیا اور موراویا کے ناظم) کے قتل کے رد عمل کے طور پر جرمنوں نے پراگ کے باہر واقع ایک چھوٹے سے گاؤں لیڈیچ کو تباہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیشتر رہائشیوں کو قتل کردیا گيا۔ تقریباً دو سو عورتوں کو جرمنی کے ریونزبروئک حراستی کیمپ اور تقریباً سو بچوں کو دوسرے مراکز میں جلاوطن کردیا گيا۔ قصبے کو جلا کر راکھ کردیا گیا، گھروں کو جلادیا گیا یا گرادیا گيا۔

24 مارچ 1944
ایس ایس کے اہلکاروں نے روم کے قریب اطالویوں کا قتل عام شروع کر دیا

جرمن فوجیوں پر حلیفوں کے حملے کے جواب میں ایس ایس (نازی حکومت کے ایلیٹ گارڈ) کے دستوں نے روم کے جنوب میں واقع آرڈياٹائن ‏غاروں میں تین سو سے زائد اطالویوں کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ قتل کئے جانے والے ہر جرمن فوجی کے عوض دس یرغمالیوں کو مارا گيا۔ قتل عام کے بعد ایس ایس نے غاروں کو دھماکوں سے اڑا دیا۔

10 جون 1944
ایس ایس کے دستوں نے فرانس کے دیہاتیوں کا قتل عام شروع کردیا

ایک ایس ایس دستے نے جنوبی فرانس میں واقع ایک چھوٹے سے فرانسیسی گاؤں اوریڈور ۔ سر ۔ گلین کی مکمل آبادی کو ختم کردیا۔ چھ سو سے زائد مردوں، عورتوں اور بچوں کو گاؤں کے گرجا گھر میں زبردستی جمع کیا گيا اور پھر گرجا گھر کو آگ لگادی گئی۔ کوئی بھی زندہ نہ بچا۔ نارمینڈی، فرانس میں اتحادی افواج کی آمد کے بعد مقبوضہ فرانس میں حرمنی کی مخالفت میں حامیوں کی سرگرمیاں بڑھنے لگیں۔ اوریڈور ۔ سر ۔ گلین میں عورتوں، مردوں اور بچوں کا قتل عام حامیوں کی ان سرگرمیوں کا ہی رد عمل تھا۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.