United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں:
جسمانی اور ذھنی طور پر معذور افراد کا قتل۔
اکتوبر 1939
ہٹلر نے معذور افراد کے قتل کی اجازت دے دی

ایڈولف ہٹلر نے "رحمانہ قتل" کے پروگرام کی شروعات کی اجازت دی - یہ ان جرمنوں کے باقاعدہ طور پر قتل کا نام تھا جنہيں نازی "زندگی کے ناقابل" سمجھتے تھے۔ اس حکم کا اطلاق جنگ کے آغاز کی تاریخ (یعنی یکم ستمبر1939) سے کیا گیا۔ شروع میں ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور عملے کو ہدایت کی گئی کہ وہ مریضوں کو نظر انداز کریں۔ یوں مریض بھوک اور بیماریوں سے مرجاتے تھے۔ اس کے بعد "کنسلٹینٹ" ہسپتالوں میں جاتے تھے اور فیصلہ کرتے تھے کہ کونسے افراد کو ماردیا جائے۔ ان مریضوں کو جرمنی عظمیٰ میں "رحمانہ قتل" کے مراکز میں بھیجا جاتا تھا جہاں انہيں زہریلے ٹیکوں کے ذریعے یا گیس چیمروں میں قتل کیا جاتا تھا۔

3 اگست 1941
کیتھلک بشپ نے رحمانہ قتل کی مذمت کی

1941 تک اس خفیہ "رحمانہ قتل" کے پروگرام کے متعلق جرمنی میں لوگوں کو عام طور پر خبر ہوگئی۔ موئنسٹر کے بشپ کلیمنز اوگسٹ گراف وان گالن نے 3 اگست 1941 کو ایک عوامی خطبے میں قتل کے ان اقدامات کی مذمت کی۔ دوسری نمایاں عوامی شخصیات اور کلیسوں نے بھی ان قتل کے اقدامات پر اعتراض کیا۔

24 اگست 1941
ہٹلر نے سرکاری طور پر "رحمانہ قتل" کے پروگرام کو ختم کرنے کا حکم جاری کردیا

عوام کی بڑھتی ہوئی تنقید نے ایڈولف ہٹلر کو پروگرام ختم کرنے کے احکامات جاری کرنے پر مجبور کر دیا۔ مختلف "رحمانہ قتل" کے مراکز میں گیس چیمبروں کو توڑ دیا گيا۔ اس وقت تک تقریباً ستر ہزار جرمن اور آسٹرین ذہنی یا جسمانی طور پر معذور مریضوں کو قتل کیا جا چکا تھا۔۔ اگرچہ "رحمانہ قتل" کا پروگرام سرکاری طور پر ختم ہوگیا تھا، انفرادی سطح پر جسمانی یا ذہنی طور پر معذور افراد کا قتل خفیہ طور پر جاری رکھا گیا۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.