United States Holocaust Memorial Museum
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا
اہم تاریخیں: نازی نسل پرستی کی بنیادیں
24 فروری 1920
نازیوں نے سیاسی ایجنڈے کا خاکہ تیار کر لیا

جرمنی کے شہر میونخ میں نازی پارٹی، جسے اس وقت جرمن کارکنوں کی پارٹی کہا جاتا تھا، کا پہلا عوامی اجلاس منعقد ہوا۔ ایڈولف ہٹلر نے 25 نقطوں پر مبنی پروگرام جاری کیا جس میں پارٹی کے سیاسی ایجنڈے کا خاکہ پیش کیا گيا تھا۔ پارٹی کے منشور میں نسل پرستی نمایاں تھی۔ اس کے تحت جرمنی میں نسلی پاکيزگی کا مطالبہ کیا گیا تھا؛ جرمنوں کی کم تر نسلوں پر حکومت کرنے کا اعلان کیا گیا تھا؛ اور یہودیوں کو نسلی دشمن قراد دیا گیا تھا۔ نقطہ نمبر 4 کے اختتام میں لکھا گیا تھا "لہذا کوئی بھی یہودی قوم کا رکن نہيں ہوسکتا ہے"۔

18 جولائی 1925
مائن کیمپف کی پہلی جلد شا‏ئع ہو گئی

ایڈولف ہٹلر نے 1923 میں اقتدار چھیننے کی ناکام کوشش کے بعد غداری کے الزام میں قید کاٹنے کے دوران مائن کیمپف لکھی تھی۔ مائن کیمپف میں اس نے نسل کے حوالے سے اپنے تصورات کا خاکہ پیش کیا تھا۔ ہٹلر کی نظر میں تاریخ نسلوں کے درمیان رہنے کی جگہ کے لئے جدوجہد کا نام تھا۔ اس نے مشرق میں فتح کا خواب دیکھا، جس کے نتیجے میں سلاویک قوموں کو جرمن مفادات کا غلام بنا دیا گیا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یہودی خاص طور پر برے تھے جو قوم کے اندر "نسلی پاکیزگی" میں مداخلت کر رہے تھے۔ اس نے جرمنی سے یہودیوں کو "نکال دینے" کی ترغیب دی

14 جولائی 1933
نازی حکومت نے نسلی پاکیزگی کا قانون نافذ کردیا

ہٹلر اس بات میں یقین رکھتا تھا کہ "نسلی پاکیزگی" کے لئے حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ انسانی تولید سے متعلق ضابطے جاری کرے اور اس وجہ سے اس نے جینیاتی طور پر بیمار اولادوں کی روک تھام کا قانون جاری کردیا۔ دوسرے ضوابط کے علاوہ اس اقدام کے تحت "ناپسندیدہ افراد" کو اولاد پیدا کرنے سے روکا گيا تھا اور مخصوص جسمانی یا دماغی طور پر معذور افراد کی زبردستی نسبندی کرنے کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس قانون کی وجہ سے اگلے 18 مہینوں میں چار لاکھ کے قریب افراد متاثر ہونے والے تھے۔

Copyright © United States Holocaust Memorial Museum, Washington, D.C.