5 دسمبر1930
جوزف گوئبیلز نے فلم کے پریمئیر میں مداخلت کی
برلن میں جوزف گوئبیلز نے، جو کہ ایڈولف ہٹلر کے اعلی نائبین میں سے ایک تھا، اسٹارم ٹروپروں (ایس اے) کے ساتھ مل کر ایرک ماریہ ریمارک کے ناول "آل کوائیٹ آن دا ویسٹرن فرنٹ" پر مبنی فلم کے پریمئیر میں خلل اندازی کی۔ نازی مظاہرین نے فلم روکنے کے لئے دھوئيں کے بم اور چھینکنے کے پاؤڈر پھینکے۔ مداخلت کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو مارا پیٹا گیا۔ نازیوں کو ہمیشہ سے ہی یہ ناول ناگوار گزرتا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس میں جنگ کے ظلم اور بے ہودگی کا اظہار "غیرجرمن" تھا۔ بالآخر فلم پر پابندی عائد کردی گئی۔ ریمارک 1931 میں ہجرت کر کے سوئٹزرلینڈ چلے گئے، اور اقتدار سنبھالنے کے بعد نازيوں نے 1938 میں اُن کی جرمن شہریت منسوخ کردی۔ 13 مارچ 1933
جوزف گوئبیلز کو رائخ کی وزارت پروپیگنڈا کا سربراہ نامزد کردیا گيا
جوزف گوئبیلز کو، جو ایڈولف ہٹلر کے سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں میں سے ایک تھا، رائخ کی وزارت برائے عوامی روشن خیالی اور پروپاگینڈا کا سربراہ نامزد کردیا گيا۔ یہ ایجنسی تمام میڈيا (اخبارات، ریڈيو پروگرام اور میڈيا) اور عوامی تفریح اور ثقافتی پروگرام (ڈرامہ، فن اور موسیقی) کے مضامین اور نشریات کو کنٹرول کرتی رہی۔ گوئبیلز نے میڈيا میں نازیوں کی نسل کشی اور تصورات کو ضم کرنا شروع کردیا۔
10 مئی 1933
برلن میں کتابوں کو جلائے جانے کے موقع پر جوزف گوئیلز کا خطاب
برلن کے اوپرا اسکوائر میں جرمنی کے پروپاگینڈا کے وزیر جوزف گوئبیلز کا خطاب سننے کے لئے چالیس ہزار افراد جمع ہوئے۔ گوئبلیز نے یہودیوں، آزاد خیال افراد، بائيں بازو کے خیالات کے حامل افراد، امن پسند لوگوں، غیر ملکیوں اور دوسرے افراد کے مضامین کو "غیرجرمن" قرار دے دیا۔ نازی طلبا نے کتابیں جلانا شروع کردیں۔ جرمنی بھر کی لائبریریوں کو "سنسر شدہ" کتابوں سے پاک کردیا۔ گوئبیلز نے "جرمن روح کی پاکیزگی" کا اعلان کردیا۔