22 فروری 1933
ایس ایس اور ایس اے ضمنی پولیس کے یونٹس بنا دئے گئے
ایڈولف ہٹلر کے جرمنی کے چانسلر بننے کے ایک ماہ کے اندر اس نے نازی پارٹی کے عناصر سے ضمنی پولیس کے اہلکاروں کے طور پر کام کرنے کیلئے کہا۔ ایس ایس، جو پہلے ہٹلر کے باڈی گارڈ ہوا کرتے تھے، اور ایس اے، گلیوں میں لڑنے والے یا نازی پارٹی کے اسٹارم ٹروپر، اب سرکاری پولیس کے اختیارات رکھتے تھے۔ اس سے جرمن معاشرے میں نازی پارٹی کی طاقت اور بھی بڑھ گئی۔ 28 فروری 1933
رائخ اسٹاگ کی آتشزدگی کے بعد جاری ہونے والے فرمان نے پولیس کو اختیارات دئے
27 فروری 1933 کو رائخ اسٹاگ(جرمن پارلیمنٹ) کی آتش زدگی کے بعد ہنگامی فرمان کے ذریعے پولیس کو گرفتاری کے تقریباً لامحدود اختیارات عطا کردئے گئے۔ ان اختیارات کو "حفاظتی حراست" کہا جاتا ہے۔ قومی سوشلسٹ اصطلاحات میں حفاظتی حراست سے مراد مقدمے یا قانونی کارروائی کے بغیر حکومت کے سیاسی مخالفین کی گرفتاری تھا۔ تحفظاتی حراست کے قیدیوں کو معمولی قید خانوں کے بجائے حراستی کیمپوں میں رکھا جاتا تھا۔ ان کیمپوں کو پہلے تو اسٹارم ٹروپروں (ایس اے) نے قائم کیا تھا اور پھر یہ ایس ایس کے لیڈروں کے دائرہ اختیار کے تحت آ گئے۔
20 مارچ 1933
ہائنرچ ہملر نے ڈخاؤ کے افتتاح کا اعلان کردیا
جنوبی جرمنی میں واقع میونخ کے قریب واقع ڈخاؤ کا کیمپ نازیوں کے قائم کردہ پہلے حراستی کیمپوں میں سے ایک تھا۔ ایس ایس کے لیڈر ہائنرچ ہملر نے 20 مارچ 1933 کو اس کے افتتاح کا اعلان کیا- پہلے قیدی 22 مارچ کو پہنچے، جو زيادہ تر کمیونسٹ اور سوشلسٹ تھے۔ ڈخاؤ 1933 سے 1945 تک فعال رہنے والا واحد کیمپ تھا
17 جون 1936
ہائنرخ ہملر جرمن پولیس کا سربراہ بن گیا
ایڈولف ہٹلر نے ایس ایس کے سربراہ ہائنرخ ہملر کو جرمنی کے تمام پولیس یونٹس کا سربراہ مقرر کردیا۔ پولیس کے تمام اختیارات اب مرکز میں محدود ہوچکے تھے۔ گسٹاپو (جرمنی کی خفیہ سرکاری پولیس) اب ہملر کے زیراختیار تھی۔ ملکی سلامتی کی ذمہ دار اس تنظیم کے پاس لوگوں کو حراستی کیمپوں میں بھیجنے کا اختیار تھا۔ گسٹاپو کے ممبران اکثر ایس ایس کے ممبران بھی تھے۔