28 جون 1919
ورسائے کے معاہدے کے ساتھ پہلی جنگ عظیم کا اختتام
پہلی جنگ عظیم کے بعد ورسائے کے معاہدے کے تحت فاتح قوتوں (امریکہ، برطانیہ، فرانس اور دوسرے اتحادی ممالک) نے جرمنی پر کڑی شرائط عائد کردیں۔ حملے کے ڈر سے جرمنی معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور تھا۔ دوسرے ضوابط کے علاوہ جرمنی نے جنگ کی ذمہ داری بھی قبول کی اور بڑی رقوم کی ادائيگياں کرنے (جنہيں تلافی کا نام دیا گيا)، اپنی فوج کو ایک لاکھ ٹروپس تک محدود کرنے اور اپنے پڑوسیوں کو زمین دینے کی حامی بھرلی۔ اس معاہدے کی شرائط کی وجہ سے جرمنی میں سیاسی عدم اطمنان پیدا ہوگیا۔ ایڈولف ہٹلر نے حالات بہتر کرنے کا وعدہ کرکے حمایت حاصل کی۔ 24 اکتوبر 1929
نیویارک کے بازار حصص میں شدید مندی
نیو یارک کے بازار حصص کے ساتھ منسلک حصص کی قیمتوں میں شدید مندی کی وجہ سے کئی کاروبار دیوالیہ ہو گئے۔ امریکہ میں بے روزگاری زور پکڑنے لگی۔ اسے "عظیم معاشی پستی" کا نام دیا گیا اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں معاشی بحران پیدا ہوگیا۔ جرمنی میں جون 1932 تک ساٹھ لاکھ افراد بے روزگار تھے۔ معاشی پریشانی کی وجہ سے نازی پارٹی کی حمایت ایک دم بڑھ گئی۔ اس کے نتیجے میں جولائی 1932 میں رائخ اسٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) کے انتخابات میں نازی پارٹی نے تقریباً 40 ووٹ حاصل کرلئے۔ نازی پارٹی اس وقت جرمن پارلیمنٹ کی سب سے بڑی پارٹی بن گئی۔
6 نومبر 1932
نازی پارٹی پارلیمانی انتخابات میں حمایت سے محروم ہو گئی
نومبر 1932 میں رائخ اسٹاگ (جرمن پارلیمنٹ) کے انتخاب میں نازیوں کو جولائی کے انتخابات کے مقابلے میں بیس لاکھ ووٹ کم ملے۔ انہوں نے صرف 33 فیصد ووٹ حاصل کئے۔ یہ بات واضح ہونے لگی کہ نازی جمہوری انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے سے قاصر رہيں گے اور ایڈولف ہٹلر روایت پسندوں کے ساتھ ایک مخلوط اتحاد بنانے کے لئے راضی ہوگیا۔ کئی مہینوں کے مذاکرات کے بعد جرمنی کے صدر پول وون ہنڈنبرگ نے 30 جنوری 1933 کو روایت پسندوں کی اکثریت کی حکومت میں ہٹلر کو جرمنی کا چانسلر بنا دیا۔