
امریکی ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کی ضمیر سے متعلق کمیٹی نے 2001 میں چیچنیا میں قتل عام کی نگرانی کیلئے ایک وارننگ جاری کی۔ چیچنیا کے بارے میں کمیٹی کی تشویش ماضی میں چیچنیا کے لوگوں پر ہونے والے ظلم و استبداد، روسی معاشرے کے اندر ایک گروپ کی حیثیت سے چیچنوں کی بے قدری اور روسی فوجوں کی طرف سے چیچن شہریوں پر ہونے والے تشدد کے حوالے سے ہے۔
روس کی ایک بڑی بری فوج 30 ستمبر 1999 میں توپوں اور ہوائي فوج کی مدد سے چیچنیا میں داخل ہوئی۔ روسی حکام کا دعوٰی تھا کہ یہ اقدام دہشت گردوں کے خلاف کارروائی تھی جو ہمسایہ روسی جمہوریہ داگستان میں چیچن عسکریت پسندوں کی دراندازی اور ماسکو اور دیگر علاقوں میں اپارٹمنٹ کی عمارتوں میں ہونے والے اُن دھماکوں کے جواب میں تھی جن کا الزام وہ چیچن لوگوں پر عائد کرتے تھے۔ اِس کے بعد کے مہینوں میں چیچنیا کو تباہ کر دیا گیا جس میں چیچنیا کے دارالحکومت گروزنی کی مکمل تباہی بھی شامل ہے۔ روسی توپ خانے اور ہوائی جہازوں نے شہری علاقوں پر بلا تخصیص حملے جاری رکھے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی روسی یونٹوں کی طرف سے قتل عام کی متعدد کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔
روسی صدر ولای میر پوٹن نے اعلان کیا کہ چیچنیا میں 2000 کے موسم بہار تک امن قائم ہو جائے گا۔ مگر مسلسل جاری تباہ کن جنگ کا نشانہ بننے والے چیچن شہریوں کیلئے امن اب بھی ایک خواب ہی ہے۔ یہ لوگ روسی فوجوں کی طرف سے کی گئی ذیادتیوں، بلا تخصیص گرفتاریوں، لوٹ کھسوٹ، ایذا رسانی اور قتل کے اقدامات سے تنگ آ چکے ہیں۔ چیچنیا کے شہری بھی تکلیف سے گزر رہے ہیں کیونکہ روزمرہ ضروریات کی اشیاء اور تعلیم جیسی بنیادی سماجی خدمات کو دوبارہ استوار کرنے کے سلسلے میں کوئی پائیدار کوششیں موجود نہیں ہیں۔ عسکریت پسند چیچن بھی شہریوں کے خلاف زیادتی کرتے ہیں مگر یہ زیادتی اُس شدت اور اُس پیمانے پر نہیں جو روسی افواج کرتی ہیں۔
تجدید 2007
5 اپریل 2007 میں چیچنیا کے سابق وزیر اعظم اخمد کیڈیروف کے بیٹے رمضان کیڈیروف چیچنیا کے صدر بن گئے۔ وہ چیچنیا کی سب سے زیادہ خوفناک ملیشیا کیڈیروفٹسی کے سربراہ تھے۔ اگرچہ وہ 2004 میں اپنے والد کی وفات کے بعد سے ایک بادشاہ گرد کی سی حیثیت رکھتے تھے مگر وہ چیچن قانون کے تحت اُس وقت تک صدر نہیں ہو سکتے تھے جب تک اُن کی عمر 30 برس نہ ہو جاتی۔ اُنہوں نے اپنی تیسویں سالگرہ کے چار ماہ بعد چیچنیا کا اعلٰی ترین منصب سنبھال لیا۔
روسی انسانی حقوق کی تنظیم میموریل کے مطابق چیچنیا میں لوگوں کے غائب ہونے کے واقعات کی تعداد بظاہر ہر سال کم ہو رہی ہے لیکن یہ اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مذید برآں چیچنیا میں قید لوگوں کو اذیت دی جاتی ہے اور اُن کے ساتھ برا سلوک ہوتا ہے۔ میموریل کی نگرانی سے پتہ چلتا ہے کہ زیادہ تر واقعات میں کیڈیروفٹسی (کیڈیروف کی کمان میں ماسکو نواز فوجیں) اِن ذیادتیوں کی ذمہ دار ہیں۔ اس کے علاوہ وفاقی وزارت داخلہ کے آپریٹیو ڈپارٹمنٹ او۔ آر۔ بی کے اہلکاروں نے بھی بہت سی ذیادتیاں کیں ہیں۔ اکثر اوقات او۔ آر۔ بی قیدیوں کو یہ قبول کرنے پر مجبور کر دیتی کہ وہ مزاحمتی تحریک کے رکن ہیں اور پھر اُن پر جھوٹے الزامات لگا کر اُنہیں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ کیڈیروفٹسی قیدیوں کو مجبور کرتی کہ وہ اُن میں شامل ہو جائیں یا پھر اُنہیں اذیتیں دے کر رہا کر دیا جاتا۔ پورے چیچنیا میں شہریوں کو رہائش اور طبی دیکھ بھال کی سہولتوں کے حصول میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
چیچنیا میں حالیہ صورتحال کے بارے میں مزید معلومات کیلئے اس صفحہ پر موجود متعلقہ لنک پر جائیے۔
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا »
ہالوکاسٹ »
پناہ گزیں »
پناہ گزینوں کی موجودہ صورتِ حال »
نسل کشی کیا ہے؟ »
نسل کشی کی ٹائم لائن »
Chechnya »