

جنجوید کی طرف سے لوٹ مار اور حملے کے بعد ام زیفا گاؤں نذر آتش کیا گیا جا رہا ہے۔ یہ تصویر برائن اسٹیڈل نے بنائی تھی۔
USHMM, courtesy of Brian Steidle
"دارفور میں میرا کیمرا کافی نہیں تھا"
عدل و انصاف کے طویل راستوں کے لئے سب سے پہلا قدم ظلم و ستم کا ریکارڈ مرتب کرنا تھا۔ امریکہ کے ایک سابق میرین برائن اسٹائیڈل دارفور سوڈان میں تنازعے کی نگرانی کرنے والی افریقی یونین ٹیم کے ایک رکن تھے۔ اسٹائیڈل نے سینکڑوں تصاویر اتاریں۔ انتہائی تفصیل سے منظر کشی کرتی ہوئی اُن کی تصاویر میں چھوٹے بچوں سمیت شہریوں کے خلاف وحشیانہ سلوک کھایا گیا تھا۔
سوڈان کے مغربی علاقے دارفور میں سوڈانی فوجیوں اور حکومت کی حمایت کے حامل ملیشیا کے ارکان نے لاکھوں شہریوں کو قتل کیا اور ھزاروں عورتوں کی آبروریزی کی۔ مذکورہ ملیشیا کو بعض اوقات جنجوید بھی کہا جاتا ہے۔ 15 لاکھ سے زائد شہریوں کو اُن کے گھروں سے بے دخل کر دیا گیا، اُن کے گاؤں نظر آتش کر دئے گئے اور سوڈان کی فوج اور اتحادی ملیشیا کی طرف سے اُن کی املاک چوری کر لی گئیں۔ سخت صحرائی ماحول میں ھزاروں افراد ہر ماہ ناکافی خوراک، پانی اور صحت کی سہولتوں کے علاوہ پناہ کے فقدان کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یہ تمام افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹتے ہوئے خوفزدہ ہیں کیونکہ فوج اور ملیشیا دیہات میں ابھی بھی قتل و غارت گری میں ملوث ہے۔
یہ بحران جاری ہے۔ امریکہ کے ہالوکاسٹ میموریل میوزیم نے دارفور کیلئے قتل و غارت گری کی ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کیا ہے۔ کیا اب دنیا اِس طرف توجہ دے رہی ہے؟ کیا افراد اور حکومتیں ظہور پزیر ہونے والی قتل و غارت گری کی اِس صورتِ حال میں مداخلت کریں گے؟ کیا کسی روز ظلم توڑنے والے اِن لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو گی جیسی کہ نیورم برگ میں ہوئی تھی۔ برائن اسٹائیڈل کی تصاویر مقدمے کیلئے ثبوت فراہم کریں گی۔ ہالوکاسٹ کے بعد کی دنیا اِس کی متقاضی ہے۔
ہالوکاسٹ انسائیکلوپیڈیا »
ہالوکاسٹ »
نسل کشی کیا ہے؟ »
نسل کشی کی ٹائم لائن »
ایلی ویزل : سوڈان میں ہونے والے ظلم و ستم کے بارے میں »
پناہ گزینوں کی موجودہ صورتِ حال »
Is the World Watching Now »