

جرمن حکام کیلئے یہودیوں کی مذمت مختلف ذرائع سے کی گئی اورکبھی کبھار تو ان کے بچانے والوں کی طرف سے بھی ایسا کیا گیا۔ 1944 میں ایوا اور لی این (جنہيں اس تصویر میں دکھایا گیا ہے) کے بچانے والوں کے درمیان جھگڑے کے نتیجے میں ان کی اطلاع پولیس کو دے دی گئی۔ شوہر نے طیش میں آکر اپنی بیوی اور دونوں یہودی لڑکیوں کو برا بھلا کہا۔ منظر بہنوں کو آشوٹز بھیج کر ماردیا گیا۔
Alfred Munzer; US Holocaust Memorial Museum
چھپے رہنے کے دوران زندگی ہمیشہ مشکلات سے عبارت ہوتی تھی۔ تمامتر جرمن مقبوضہ یورپ میں نازیوں نے چھپے ہوئے بچوں کو تلاش کرنے کے جتن کئے۔ جرمن اہلکاروں اور اُن کے حلیف اُن لوگوں کے ساتھ انتہائی سخت سلوک کرتے جو یہودیوں کی مدد کرتے تھے اور اُن لوگوں کو انعام کی پیشکش کرتے تھے جو یہودیوں کو اُن کے حوالے کر دیتے تھے۔ مارچ 1943 سے گسٹاپو (حرمن خفیہ ریاستی پولیس) نے جرمنی میں رہنے والے چند یہودیوں سے اپنے چھپے ہوئے ہم مذہب افراد کی اطلاع دینے کے بدلے جلاوطنی سے معافی بھی دلائی۔ 1945 کے موسم بہار تک جب نازی حکومت تباہ ہوچکی تھی، ان مخبروں نے 2000 کے لگ بھگ یہودیوں کو اُن کے حوالے کر دیا تھا۔ دوسرے ممالک میں ہمسائے پیسوں کے بدلے یا حکومت کی حمایت میں دوسروں کی اطلاع فراہم کرتے تھے۔ جرمن مقبوضہ پولینڈ میں بلیک میل کرنے والوں نے یہودیوں کو حکام کے حوالے کر دینے کی دھمکیاں دے کر ان سے پیسے یا جائداد ہتھیا لی۔
چھپے ہوئے یہودی جبری مشقت کے لئے مزدور، مدافعت کے سیل، بلیک مارکیٹ کے افراد یا دستاویزات کی تلاش کے دوران بھی اتفاق سے مل جاتے تھے۔ منہ سے نکلا ہوا کوئی لفظ، غیر مناسب انداز میں تیار کی گئی جعلی دستاویزات یا گپ شپ سے گرفتاری اور جلاوطنی واقع ہوسکتی تھی۔