United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate

 

Related link:

Listen to Eboo Patel’s essay in NPR’s series “This I Believe”

 

Voices on Antisemitism — A Podcast Series

Eboo Patel
Credit: Nubar Alexanian

May 10, 2007

Eboo Patel

Executive Director, Interfaith Youth Core

Eboo Patel insists that it is not enough for young people to unlearn the hatreds of previous generations. In bringing them together to serve their communities, Patel hopes that they will become the architects of greater religious understanding.

RSS Subscribe | Download | Share | Comment

Download audio (.mp3) mp3 – 8.25 MB »

Transcript also available in:
English
إطلع على الترجمة العربية للنسخة المسجلة
ترجمه فارسی این نسخه را بخوانید


Transcript:

ایبو پٹیل
پی۔ ایچ۔ ڈی، ایگزیکٹو ڈائریکٹر، انٹر فیتھ یوتھ کور

ایبو پٹیل کا اصرار ہے کہ نوجوان افراد کے لئے صرف یہ کافی نہیں کہ وہ پرانی نسلوں کی نفرت کو بھول جائیں۔ پٹیل کو اُمید ہے کہ اپنی کمیونٹیز کی خدمت کے لئے اُنہیں متحد کرتے ہوئے وہ بڑے پیمانے پر مذہبی افہام و تفہیم کے خالق بن سکیں گے۔

ایبو پٹیل:

میرا خیال ہےکہ کثرت پسندی ہمارے دور کے سب سے اہم نظریات میں سے ایک ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اکیسویں صدی میں کئی طریقوں سے کثرت پسندی اور مطلق العنانیت کے درمیان جنگ رہے گی۔ یہ جنگ صرف ایک نظرئیے کی بنیاد پر ہو گی کہ ایک طرف وہ واحد ذات ہے جو جائز انداز میں اعتقاد کی امین ہے اور دوسری طرف زمین پر بسنے والے لوگ ہیں۔ اِن کے علاوہ ہر دوسرا راستہ تباہ کر دیا جانا چاہئیے۔ یہ تصور مطلق العنانیت ہے اور کثرت پسندی کا تصور جس میں لوگ مختلف برادریوں سے جڑے ہوتے ہیں اور مختلف روایات میں یقین رکھتے ہیں۔ اُنہیں امن اور وفاداری کی فضا میں ایک دوسرے کے ساتھ رہنا سیکھنا ہوگا۔ اور میرے خیال میں نوجوان لوگ کثرت پسندی اور مطلق العنانیت کے درمیان بدلتی ہوئی دنیا کے لئے واحد سب سے اہم عنصر ہیں۔ با الفاظ، دیگر نوجوان لوگ جس طرح کے ہیں اُن کے ذریعے ہی یہ طے ہوگا کہ کیا کثرت پسندی یہ طے کرے گی کہ اکیسویں صدی کیسی ہونی چاہئیے یا پھر یہ کام مطلق العنانیت کے ذریعے طے کیا جائے گا۔

ڈینیل گرین:

1998 میں ایبو پٹیل نے ایک تحریک کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مختلف مذاہب کے نوجوانوں کو اکٹھا کرنا ہے تاکہ وہ اپنی اپنی برادریوں کی خدمت کر سکیں۔ پٹیل کا اصرار ہے کہ نوجوان لوگوں کے لئے محض یہ ہی کافی نہیں ہے کہ وہ پرانی نسلوں کی نفرتوں کو بھول جائیں۔ پٹیل کو اُمید ہے کہ ایک ساتھ کام کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کو جانتے اور احترام کرتے ہوئے یہ نوجوان وسیع تر مذہبی افہام و تفہیم کے خالق بن جائیں گے۔

میں آپ کو"سام دشمنی کے خلاف آوازیں" یعنی "Voices on Antisemitism" میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ یونائیٹڈ اسٹیٹس ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کی مُفت پاڈ کاسٹ سیریز کا ایک حصہ ہے۔ میں ڈینیل گرین ہوں۔ ہم ہر دوسرے ہفتے آج کی دنیا پر مختلف حوالوں سے سام دشمنی اور نفرت کے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ایک مہمان کو مدعو کرتے ہیں۔ آج کے مہمان ہیں انٹر فیتھ یوتھ کور کے ایبو پٹیل۔

ایبو پٹیل:

ہر مطلق العنان تحریک کا مرکزی کردار نوجوان لوگ ہوتے ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ اِس بات کی وجہ موجود ہے کہ ایڈولف ہٹلر نے نازی جرمنی میں اپنے نوجوانی دور کا آغاز کیا۔ اِس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے بدشکل مطلق العنان نظرئیے میں نوجوان افراد کو شامل کرنے کی اہمیت سمجھ گیا تھا۔ لیکن ہم جو کچھ ذیادہ نہیں جانتے وہ یہ ہے کہ ہر طاقتور کثرت پسند تحریک کا مرکز بھی نوجوان ہی رہے ہیں اور مجھے یہ سوچتے ہوئے جھرجھری سی آتی ہے کہ 1955 میں مانٹگمری الاباما میں جس شخص نے شہری حقوق کی مہم کا آغاز کیا اُس کی عمر صرف 26 برس تھی اور جنوبی افریقہ میں بیسویں صدی کی ابتدا میں جو شخص نسلی تعصب پر مبنی قوانین کے خلاف بر سرِ پیکار تھا دراصل ایک طرح سے وہ نیلسن منڈیلا کی فاؤنڈیشن افریقن نیشنل کانگریس کی بنیاد رکھ رہا تھا۔ وہ کنگ سے بھی کم عمر تھا۔ اُس کی عمر 24 برس تھی اور وہ مہاتما گاندھی تھا جو بلاشبہ بیسویں صدی میں بھارت کو آزادی دلانے کی خاطر اپنے عدم تشدد کے فلسفے کا پرچار کرنے والے تھا۔ پھر 1950 کی دہائی میں جس شخص نے مقبوضہ تبت سے اپنے لوگوں کی وقار اور سکون کے ساتھ قیادت کرتے ہوئے اُنہیں بھارت لے آیا وہ بھی بیس سال سے کم عمر نوجوان تھا۔ یہ نوجوان عزت مآب دلائی لامہ تھے۔

مجھے حیرت ہے کہ یہ تمام تحریکیں کثیر مذہبی پہلو اور کثیر مذہبی مقصد لئے ہوئے تھیں اور اِن تمام کی قیادت نوجوان افراد نے ہی کی تھی۔

اب ایک سوال یہ ہے کہ کیا ایسی مذہبی قوتیں بھی ہیں جو لوگوں کو تقسیم کرتی ہیں اُن مذہبی قوتوں کے مقابلے میں جو متحد کرتی ہیں۔ اور پھر اِن دونوں میں سے کون سی قوتیں زیادہ مضبوط ہیں۔ یہ قوتیں خود لوگ ہی ہیں۔ افراد تقسیم کرتے ہیں اور افراد ہی متحد کرتے ہیں اور ہمارے درمیان تقسیم کرنے والے طاقتور لوگ موجود ہیں۔ ہمارے سامنے ایسے لوگ ہیں جو افراد کو تقسیم کرنے کا بیج بونے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے اور ایسے لوگ ہر مذہب میں موجود ہیں۔ آج جو سوال ہمیں پوچھنا ہے وہ یہ نہیں ہے کہ آیا ایک دھندلی یا تجریدی شے جسے ہم مذہب کہتے ہیں فطری طور پر افراد کو منقسم کرتی ہے یا پھر قدرتی انداز میں متحد کرتی ہے۔ مذہب کچھ نہیں کرتا۔ مذہبی لوگ خود مذہب کے ساتھ ذیادتی کرتے رہتے ہیں۔ اور میرا خیال ہے کہ مذہبی روایات میں ایسے غیر معمولی وسائل موجود ہوتے ہیں جو لوگوں کو متحد کرتے ہیں اور یہی وہ تحریک ہے جس کا میں حصہ بننے کے لئے کوشاں ہوں۔

یہ ایک بدقسمت حقیقت ہے کہ آج مسلمان برادری کا ایک طبقہ ایسا ہے جو سام دشمنی کی ایک شکل سے متاثر ہے۔ یہ انتہائی خراب بات ہے اور مجھے اِس سے نفرت ہے لیکن یہ حقیقت ہے۔ مگر جس چیز سے میری حوصلہ افزائی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ممتاز مسلمان عالم اور راہنما اِس کا بڑی ہمت سے مقابلہ کر رہے ہیں اور کہ رہے ہیں کہ یہ غیر اسلامی ہے۔ لیکن یہ سب سے ذیادہ غیر اسلامی چیز ہے جو آپ کر سکتے ہیں یعنی دوسرے لوگوں سے نفرت کرنا یا پھر دوسرے لوگوں کے مذہب کے بارے میں کسی سیاسی تنازعے کی بنا پر برا سوچنا غیر اسلامی ہے کیونکہ ہمارے پیغمبر ، اُن پر خدا کی رحمت نازل ہو، نے ایسا کبھی نہیں کیا۔

لیکن بعض افراد کی طرف سے سام دشمن مسلمانوں کے کسی محدود گروپ کولے کر تمام دنیائے اسلام کو ایک ہی نظر سے دیکھنے کا رجحان اور پھر اِس سے بھی آگے جا کر موجودہ دور کی سام دشمنی کو تاریخ یا اسلام کے بنیادی ذرائع کا حصہ بنا کر پیش کرنا میرے لئے بے حد اشتعال انگیزبات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بے انتہا غیر تعمیری اور منفی ہے۔ میرا مطلب ہے کہ ایسا کہنے کا فائدہ کس کو ہو گا کہ ایک ارب چالیس کروڑ افراد بنیادی طور پر نفرت کرنے والے ہیں۔ اگر آپ ایک ارب چالیس کروڑ افراد پر نفرت کرنے کا لیبل لگا دیں گے تو آپ کیا کریں گے۔ کیا اُنہیں کیمپوں میں رکھیں گے؟ غائب کردیں گے؟ اُن کا مذہب تبدیل کر دیں گے؟ میرا مطلب ہے کہ عملی طور پر انسانیت کے پانچویں حصے کو ایسا لیبل لگانے کے لئے سخت محنت کرنا احمقانہ بات ہےکہ یہ حصہ پوری انسانیت کا مخالف ہے۔ اِس میں جیت کس کی ہو گی؟

 


 

Available interviews:

Alex Haslam
Pardeep Kaleka
Stephen Mills
Hasan Sarbakhshian
Kathleen Blee
Rita Jahanforuz
Edward T. Linenthal
Colbert I. King
Jamel Bettaieb
Jeremy Waldron
Mehnaz Afridi
Fariborz Mokhtari
Maya Benton
Vanessa Hidary
Dr. Michael A. Grodin
David Draiman
Vidal Sassoon
Michael Kahn
David Albahari
Sir Ben Kingsley
Mike Godwin
Stephen H. Norwood
Betty Lauer
Hannah Rosenthal
Edward Koch
Sarah Jones
Frank Meeink
Danielle Rossen
Rex Bloomstein
Renee Hobbs
Imam Mohamed Magid
Robert A. Corrigan
Garth Crooks
Kevin Gover
Diego Portillo Mazal
David Reynolds
Louise Gruner Gans
Ray Allen
Ralph Fiennes
Judy Gold
Charles H. Ramsey
Rabbi Gila Ruskin
Mazal Aklum
danah boyd
Xu Xin
Navila Rashid
John Mann
Andrei Codrescu
Brigitte Zypries
Tracy Strong, Jr.
Rebecca Dupas
Scott Simon
Sadia Shepard
Gregory S. Gordon
Samia Essabaa
David Pilgrim
Sayana Ser
Christopher Leighton
Daniel Craig
Helen Jonas
Col. Edward B. Westermann
Alexander Verkhovsky
Nechama Tec
Harald Edinger
Beverly E. Mitchell
Martin Goldsmith
Tad Stahnke
Antony Polonsky
Johanna Neumann
Albie Sachs
Rabbi Capers Funnye, Jr.
Bruce Pearl
Jeffrey Goldberg
Ian Buruma
Miriam Greenspan
Matthias Küntzel
Laurel Leff
Hillel Fradkin
Irwin Cotler
Kathrin Meyer
Ilan Stavans
Susan Warsinger
Margaret Lambert
Alexandra Zapruder
Michael Chabon
Alain Finkielkraut
Dan Bar-On
James Carroll
Ruth Gruber
Reza Aslan
Alan Dershowitz
Michael Posner
Susannah Heschel
Father Patrick Desbois
Rabbi Marc Schneier
Shawn Green
Judea Pearl
Daniel Libeskind
Faiza Abdul-Wahab
Errol Morris
Charles Small
Cornel West
Karen Armstrong
Mark Potok
Ladan Boroumand
Elie Wiesel
Eboo Patel
Jean Bethke Elshtain
Madeleine K. Albright
Bassam Tibi
Deborah Lipstadt
Sara Bloomfield
Lawrence Summers
Christopher Caldwell
Father John Pawlikowski
Ayaan Hirsi Ali
Christopher Browning
Gerda Weissmann Klein
Robert Satloff
Justice Ruth Bader Ginsburg