United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate

 

 

Voices on Antisemitism — A Podcast Series

Christopher Browning

December 21, 2006

Christopher Browning

Professor of History, University of North Carolina at Chapel Hill

Historian Christopher Browning has written extensively about how ordinary Germans became murderers during the Holocaust. Listen to Browning explain why examining the perpetrators' history matters.

RSS Subscribe | Download | Share | Comment

Download audio (.mp3) mp3 – 5.50 MB »

Transcript also available in:
English
إطلع على الترجمة العربية للنسخة المسجلة
ترجمه فارسی این نسخه را بخوانید
Português (BR)


Transcript:

کرسٹوفر براؤننگ
پی ایچ ڈی۔ پروفیسر آف ہسٹری۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا۔ چیپل ہِل

مؤرخ کرسٹوفر براؤننگ نے اپنی بے شمار تحریروں کے ذریعے یہ واضع کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہالوکاسٹ کے دوران عام جرمن شہری کیونکر قاتلوں کا روپ دھار لیا تھا۔ آئیے خود براؤننگ صاحب سے سنتے ہیں کہ اُنہوں نے ایسا ظلم کرنے والوں کی تاریخ کے بارے میں چھان بین کیوں کی۔

کرسٹوفر براؤننگ:

کوئی حکومت لوگوں کے ایک گروہ کو ہلاک کرنے کے لئے ایک سرکاری پالیسی کے طور پر کیسے فیصلہ کر لیتی ہے؟ لوگ ۔۔۔ عام لوگ کیسے قتلِ عام کا شکار ہوتے ہیں؟ نازی حکومت کے نظام میں ہالوکاسٹ محض چند مخبوط الحواس لوگوں کی طرف سے اذیت پسندی کا ایک چونکا دینے والا رویہ ہی نہیں تھا۔ یہ ایک افسر شاہی اور انتظامی عمل تھا۔ اِس عمل میں جرمن معاشرے اور جرمن تنظیموں کی تمام جہتیں شامل ہیں۔ اگر ہم نے ہالوکاسٹ کے بارے میں نہیں جانا توہم نازیوں کو نہیں سمجھ پائے، ہم دوسری جنگِ عظیم کو نہیں سمجھ سکے اور ہم بیسویں صدی کی یورپی تاریخ کو بھی نہیں سمجھ سکے۔

ڈینیل گرین:

تاریخ دان کرسٹوفر براؤننگ کا خیال ہے کہ ایک معلم ہونے کے ناطے یہ اُن کا فرض ہے کہ وہ مشکل سوال سامنے لائین۔ وہ کہتے ہیں کہ تاریخ کا مقصد خود اپنے آپ کو پہچاننا اور یہ جاننا ہے کہ انسان ہونے کی حیثیت سے ہم کیا کرنے
یعنی "عام لوگ" میں Ordinary Menکی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اپنی کتاب
اُنہوں نے اس بات کا جائزہ لیا ہے کہ عام جرمن لوگوں نے ہالوکاسٹ کے دوران وسیع پیمانے پر قتلِ عام کا حصہ بننے کا انتخاب کیونکر کیا۔ وہ ہم پر زور دیتے ہیں کہ ہم ظلم کا ارتکاب کرنے والے نازیوں کے اوڑھے ہوئے انسانی نقاب کا بغور جائزہ لیں۔

میں آپ کو"سام دشمنی کے خلاف آوازیں" یعنی "Voices on Antisemitism" میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ یونائیٹڈ اسٹیٹس ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کی مُفت پاڈ کاسٹ سیریز ہے۔ میں ڈینیل گرین ہوں۔ ہم ہر دوسرے ہفتے آج کی دنیا پر مختلف حوالوں سے سام دشمنی اور نفرت کے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ایک مہمان کو مدعو کرتے ہیں۔ آج کے مہمان ہیں مصنفہ اور مؤرخ کرسٹوفر براؤننگ۔

کرسٹوفر براؤننگ:

زیادہ تر یورپی تایخ کے دوران اور بیشتر یورپی لوگوں کے لئے سام دشمنی دنیا میں اُن کی صورتِ حال کے حوالے سے محض ایک چھوٹا سا واقعہ ہے۔ کیونکہ یہ الفاظ بہت عام ہیں اور جب ہٹلر یہودیوں کے خلاف مظالم شروع کر تا تھا تو نہ تو خبردار کرنے والے کوئی سگنل سامنے آتے تھے اور نہ ہی خطرے کی کوئی گھنٹیاں بجنی شروع ہوتی تھیں۔ یورپی سام دشمنی یقیناً ایک ھزار برس سے زیادہ عرصے سے موجود رہی ہے۔ یہود دشمنی کے بہت سے الزامات جن کا تذکرہ آپ قرونِ وسطیٰ کے ادب میں پڑھتے ہیں وہ ایک ھزار برس بعد بھی موجود ہیں۔ اور پھر جب نازیوں اُن کے اس عمل میں شامل ہو گئے تو وہ ایسی باتیں کہ رہے تھے جن کی بازگشت لمبے عرصے سے سنی جا رہی تھی اور جو یورپی معاشرے کا حصہ رہی تھیں۔ اُن کا ایک ایسا پیکیج تیار کیا گیا تھا جس کے حوالے سے مستقبل میں بننے والی حکمتِ عملیوں کے خدو خال بالکل نئے اور بنیاد پرست تھے۔

نازیوں نے خود کو ایک ایسے تاریخی کارنامے میں مصروف دیکھا جس کے ذریعے وہ دنیا کے آبادیاتی نقشے کو بدلنا چاہتے تھے۔ اُنہوں نے دنیا کے نظام کو جس انداز میں سمجھا اُس کی بنیاد ہی نسلی امتیاز تھا۔ اِس نظام کے تحت بنیادی طور پر تاریخ مختلف نسلوں کے درمیان ایک جدوجہد تھی اور تاریخ کا نتیجہ اِس بات پر منحصر تھا کہ کون سی نسل فتح مند ہوئی اور کس نسل کے حصے میں شکست آئی۔ ہٹلر کی سوچ کا مرکزی نقطہ یہی تھا اور وہ اس حوالے سے بخوبی جانتا تھا کہ اُس کا تاریخ میں کردار کیا ہو گا۔

میرے خیال میں ہمیں ہالوکاسٹ کے حوالے سے اِس تصور سے بچنا ہو گا کہ ہالوکاسٹ ایک قدرتی تباہی تھی۔ ہالوکاست کوئی سونامی نہیں تھا۔ یہ کوئی زلزلہ بھی نہیں تھا۔ ہالوکاسٹ خود انسان کا تخلیق کیا ہوا ایک واقعہ تھا۔ لوگوں نے خود فیصلے کئے اور پھر اُن پر عمل کیا۔ اگر ہم ہالوکاسٹ کو ایک مافوق الفطرت واقعہ قرار دیں تو ہم واضح طور پر ہالوکاسٹ کو تاریخ سے حذف کر رہے ہیں اور اسے ایک پراسرار یا روحانی واقعے کا روپ دے رہے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں اس واقعے کے انسانی حوالے کی جہت کو محفوظ کرنا ہو گا اور ایسا کرنے کے لئے ہمیں یہ مظالم ڈھانے والے مجرموں پر کڑی نظر رکھنا ہو گی۔ اِن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے یہ حکمتِ عملی مرتب کی اور فیصلے کئے۔ اِن کے علاوہ وہ بھی جنہوں نے اِس پر عمل درآمد کیا اور جو ایک کے بعد ایک قتل در قتل کرتے رہے اور قتل ہونے والوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلسل یہ جرم کرتے رہے۔ اور پھر ایسے ظالموں کو انسان قرر دینا۔ اِس بات سے قطعاً صرفِ نظر نہ کرنا کہ اِس ساری کارروائی کا مقصد اِس ساری صورتِ حال کے خوف کو اجاگر کرنا ہے۔ کیونکہ اگر ایک مرتبہ آپ اِن مظالم ڈھانے والوں کو انسان قرار دینے لگیں تو پھر آپ کو اس غیر اطمنان بخش آگہی کا سامنا کر نا پڑے گا کہ : کیا وہ بنیادی طور پر مجھ سے مختلف ہیں؟ اور اگر ایسا ہے تو ایسی صورتِ حال میں میرا طرزِ عمل کیا ہوتا؟

 


 

Available interviews:

Alex Haslam
Pardeep Kaleka
Stephen Mills
Hasan Sarbakhshian
Kathleen Blee
Rita Jahanforuz
Edward T. Linenthal
Colbert I. King
Jamel Bettaieb
Jeremy Waldron
Mehnaz Afridi
Fariborz Mokhtari
Maya Benton
Vanessa Hidary
Dr. Michael A. Grodin
David Draiman
Vidal Sassoon
Michael Kahn
David Albahari
Sir Ben Kingsley
Mike Godwin
Stephen H. Norwood
Betty Lauer
Hannah Rosenthal
Edward Koch
Sarah Jones
Frank Meeink
Danielle Rossen
Rex Bloomstein
Renee Hobbs
Imam Mohamed Magid
Robert A. Corrigan
Garth Crooks
Kevin Gover
Diego Portillo Mazal
David Reynolds
Louise Gruner Gans
Ray Allen
Ralph Fiennes
Judy Gold
Charles H. Ramsey
Rabbi Gila Ruskin
Mazal Aklum
danah boyd
Xu Xin
Navila Rashid
John Mann
Andrei Codrescu
Brigitte Zypries
Tracy Strong, Jr.
Rebecca Dupas
Scott Simon
Sadia Shepard
Gregory S. Gordon
Samia Essabaa
David Pilgrim
Sayana Ser
Christopher Leighton
Daniel Craig
Helen Jonas
Col. Edward B. Westermann
Alexander Verkhovsky
Nechama Tec
Harald Edinger
Beverly E. Mitchell
Martin Goldsmith
Tad Stahnke
Antony Polonsky
Johanna Neumann
Albie Sachs
Rabbi Capers Funnye, Jr.
Bruce Pearl
Jeffrey Goldberg
Ian Buruma
Miriam Greenspan
Matthias Küntzel
Laurel Leff
Hillel Fradkin
Irwin Cotler
Kathrin Meyer
Ilan Stavans
Susan Warsinger
Margaret Lambert
Alexandra Zapruder
Michael Chabon
Alain Finkielkraut
Dan Bar-On
James Carroll
Ruth Gruber
Reza Aslan
Alan Dershowitz
Michael Posner
Susannah Heschel
Father Patrick Desbois
Rabbi Marc Schneier
Shawn Green
Judea Pearl
Daniel Libeskind
Faiza Abdul-Wahab
Errol Morris
Charles Small
Cornel West
Karen Armstrong
Mark Potok
Ladan Boroumand
Elie Wiesel
Eboo Patel
Jean Bethke Elshtain
Madeleine K. Albright
Bassam Tibi
Deborah Lipstadt
Sara Bloomfield
Lawrence Summers
Christopher Caldwell
Father John Pawlikowski
Ayaan Hirsi Ali
Christopher Browning
Gerda Weissmann Klein
Robert Satloff
Justice Ruth Bader Ginsburg