United States Holocaust Memorial Museum The Power of Truth: 20 Years
Museum   Education   Research   History   Remembrance   Genocide   Support   Connect
Donate

 

 

Voices on Antisemitism — A Podcast Series

Gerda Weissmann Klein

December 7, 2006

Gerda Weissmann Klein

Holocaust Survivor

Gerda Klein survived the Holocaust and was liberated by an American soldier who she eventually married. Here, Klein discusses her understanding of hatred and antisemitism today.

RSS Subscribe | Download | Share | Comment

Download audio (.mp3) mp3 – 6.58 MB »

Transcript also available in:
English
إطلع على الترجمة العربية للنسخة المسجلة
ترجمه فارسی این نسخه را بخوانید
Português (BR)


Transcript:

گرڈا وائزمین کلائن
ہالوکاسٹ سروائور

گرڈا کلائن ہالوکاسٹ سے بچ نکلیں۔ اُنہیں ایک امریکی فوجی نے آزاد کرایا جس سے بالآخر اُنہوں نے شادی کر لی۔ یہاں وہ سام دشمنی اور نفرت سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتی ہیں۔

گرڈا وائزمین کلائن:

سام دشمنی یقیناً اہمیت کی حامل ہے۔ خاص طور سے یہ میرے لئے خصوصاً اہم ہے کیونکہ میرا پورا خاندان محض اِس لئے قتل کر دیا گیا کہ میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی تھی۔ میں کچھ اور نہیں ہو سکتی تھی۔ میں لڑکا نہیں بن سکتی تھی۔ میری پیدائش لڑکی کی حیثیت سے ہوئی اور میں ایک یہودی خاندان میں پیدا ہوئی۔ میں پیدائشی طور پر یہودی تھی۔ آپ جانتے ہیں کہ یہ موضوع بلا شبہ کافی وسعت کا حامل ہے کیونکہ بہت سے افراد کو اپنی پیدائش کی بنا پر غلط سمجھا جاتا ہے یا اُن سے برا سلوک کیا جاتا ہے یا پھر جس طرح وہ دکھائی دیتے ہیں یا جو کچھ بھی آپ میں ہوتا ہے اُس کی بنا پر آپ غلط سمجھے جاتے ہیں۔

ڈینیل گرین:

ہالوکاسٹ سے بچ جانے والی گرڈا وائیزمین کلائن نے اپنی ساری عمر دوسروں کو برداشت کرنے اور افہام و تفہیم سکھانے میں صرف کی ہے۔ وہ 60 برسوں سے نازی جبری کیمپوں میں اور جنگ کے اختتام پر جرمنی کے اندر سے موت کا سفر طے کرتے ہوئے اپنے تجربات کے بارے میں بتاتی آ رہی ہیں۔ جنگ کے اختتام پر اُن کا یہ سفر ایک ایسے وقت پر تھا جب تمام باقی شہادتوں اور ثبوتوں کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ کلائن اِس طریل سفر سے بھی بچ کر نکل گئیں اور درحقیقت 1945 میں جن امریکی فوجیوں نے اُنہیں رہائی دلائی اُنہی میں موجود اپنے ہونے والے شوہر سے بھی اُن کی ملاقات ہوئی۔ اُن کے تجربات اُن کی تحریروں کی طرح المیے سے بھرپور ہیں لیکن اِن میں اُمید بھی ہے۔

میں آپ کو"سام دشمنی کے خلاف آوازیں" یعنی "Voices on Antisemitism" میں خوش آمدید کہتا ہوں۔ یہ یونائیٹڈ اسٹیٹس ہالوکاسٹ میموریل میوزیم کی مُفت پاڈ کاسٹ سیریز کا ایک حصہ ہے۔ میں ڈینیل گرین ہوں۔ ہم ہر دوسرے ہفتے آج کی دنیا پر مختلف حوالوں سے سام دشمنی اور نفرت کے مرتب ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کیلئے ایک مہمان کو مدعو کرتے ہیں۔ آج کی مہمان ہیں ہالوکاسٹ سے بچ نکلنے والی گرڈا وائیزمین کلائن۔

گرڈا وائیزمین کلائن:

میں آپ کو بتاؤں کہ اپنی زندگی کے تاریک ترین وقتوں میں جب میں کیمپوں میں تھی۔ جبری مشقت کے کیمپ۔ تو ایسے وقت میں آپ معمولی چیزوں سے بھی اپنی اُمیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ جیسے اگر کوئی آپ کی طرف متوجہ ہوا یا آپ کے گرد اپنے بازو پھیلا دئے یا پھر آپ کو روٹی کا کوئی بڑا ٹکڑا مل گیا تو یہ گویا ایک نعمت تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کی بنیادی اچھائی پر میرا یقین پختہ ہوتا گیا۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ آپ کو معلوم ہونا چاہئیے کہ میں پولی اینا Pollyanna نہیں ہوں۔ میں نہیں سمجھتی کہ ایسا کبھی ہوا۔ مجھے گویا بری فضا نے گھیرا ہوا تھا اور میں محسوس کرتی ہوں کہ زندہ بچ نکلنا ایک ناقابلِ بیان رعایت ہے۔ آزاد ہو کر اپنے بچوں کو جنم دینا اپنے پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں جیسی نعمتیں حاصل کرنا۔ پھر بغیر کسی خوف کے چلنا پھرنا، لکھنا یا کچھ بھی کرنا۔ لیکن اِس کے ساتھ ساتھ بے حد گہری ذمہ داری بھی ہے۔

میں بنیادی طور پر رجائیت پسند ہوں۔ اگر میں رجائیت پسند نہ ہوتی تو آج یہاں نہ ہوتی۔ لیکن مجھے اب بے حد تشویش ہے کہ صبر و تحمل اور برداشت کا فقدان جو بدقسمتی سے دوبارہ سامنے آیا ہے ممکن ہے بچوں کے تحفظ کے ساتھ کچھ کر گزرے۔ میرا مطلب ہے میں سمجھتی ہوں کہ 11 ستمبر کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ ہم اتنے محفوظ نہیں جتنا کہ میں نے اُمید کی تھی اور دعا کی تھی کہ دنیا اس طرح محفوظ ہو جائے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ بعض اوقات میں محسوس کرنے لگتی ہوں کہ میں نے بہت جی لیا ہے۔ بدقسمتی سے جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ اب کوئی لائنیں یا سرحدیں نہیں ہیں۔ کوئی ایسی حد نہیں ہے جسے عبور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک مکمل طور پر مختلف جنگ ہے۔ ایک ایسی جنگ ہے جو کہیں بھی پھوٹ پڑتی ہے۔ یہی انتہائی خوفزدہ کرنے والی اور افسوسناک صورتِ حال ہے کہ انتہاپسندوں کی بہت معمولی اقلیت دنیا کو تباہ کر سکتی ہے اور بلا شبہ یہ انتہائی تکلیف دہ بھی ہے کہ انتہائی وحشیانہ اور بے انتہا خوفناک کارروائیاں مذہب کے نام پر کی گئیں۔ مجھے پورا یقین ہے یہ سب وہ نہیں جو خدا چاہتا ہے۔

میرا یقین تو یہ ہے کہ ہمیں ہر قسم کی برداشت کے فقدان کا مقابلہ کرنا چاہئیے اور میرا خیال ہے کہ مذہبی اور نسلی عدم برداشت ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ لوگوں نے مجھ سے پوچھا ہے "وہاں موت کے سفر میں کتنے لوگ تھے؟ چالیس ھزار؟ چار ھزار؟"۔ میرا مطلب ہے کہ اِس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ چالیس ھزار تھے یا چار ھزار۔ جب تک کہ آپ ایک فرد کے ساتھ خود کو وابستہ نہ کر سکیں اور جب تک دنیا یہ سیکھ نہ لے کہ ہم سب کے دل ایک جیسے ہیں۔ کچھ دل دوسروں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ رحم دل اور مہربان ہوتے ہیں اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے بات کرنا بہت اہم ہے۔ اِس کے بارے میں بات کرنا اور لوگوں کو اُمید دلانا۔ آپ جانتے ہی ہیں۔

 


 

Available interviews:

Alex Haslam
Pardeep Kaleka
Stephen Mills
Hasan Sarbakhshian
Kathleen Blee
Rita Jahanforuz
Edward T. Linenthal
Colbert I. King
Jamel Bettaieb
Jeremy Waldron
Mehnaz Afridi
Fariborz Mokhtari
Maya Benton
Vanessa Hidary
Dr. Michael A. Grodin
David Draiman
Vidal Sassoon
Michael Kahn
David Albahari
Sir Ben Kingsley
Mike Godwin
Stephen H. Norwood
Betty Lauer
Hannah Rosenthal
Edward Koch
Sarah Jones
Frank Meeink
Danielle Rossen
Rex Bloomstein
Renee Hobbs
Imam Mohamed Magid
Robert A. Corrigan
Garth Crooks
Kevin Gover
Diego Portillo Mazal
David Reynolds
Louise Gruner Gans
Ray Allen
Ralph Fiennes
Judy Gold
Charles H. Ramsey
Rabbi Gila Ruskin
Mazal Aklum
danah boyd
Xu Xin
Navila Rashid
John Mann
Andrei Codrescu
Brigitte Zypries
Tracy Strong, Jr.
Rebecca Dupas
Scott Simon
Sadia Shepard
Gregory S. Gordon
Samia Essabaa
David Pilgrim
Sayana Ser
Christopher Leighton
Daniel Craig
Helen Jonas
Col. Edward B. Westermann
Alexander Verkhovsky
Nechama Tec
Harald Edinger
Beverly E. Mitchell
Martin Goldsmith
Tad Stahnke
Antony Polonsky
Johanna Neumann
Albie Sachs
Rabbi Capers Funnye, Jr.
Bruce Pearl
Jeffrey Goldberg
Ian Buruma
Miriam Greenspan
Matthias Küntzel
Laurel Leff
Hillel Fradkin
Irwin Cotler
Kathrin Meyer
Ilan Stavans
Susan Warsinger
Margaret Lambert
Alexandra Zapruder
Michael Chabon
Alain Finkielkraut
Dan Bar-On
James Carroll
Ruth Gruber
Reza Aslan
Alan Dershowitz
Michael Posner
Susannah Heschel
Father Patrick Desbois
Rabbi Marc Schneier
Shawn Green
Judea Pearl
Daniel Libeskind
Faiza Abdul-Wahab
Errol Morris
Charles Small
Cornel West
Karen Armstrong
Mark Potok
Ladan Boroumand
Elie Wiesel
Eboo Patel
Jean Bethke Elshtain
Madeleine K. Albright
Bassam Tibi
Deborah Lipstadt
Sara Bloomfield
Lawrence Summers
Christopher Caldwell
Father John Pawlikowski
Ayaan Hirsi Ali
Christopher Browning
Gerda Weissmann Klein
Robert Satloff
Justice Ruth Bader Ginsburg